اردو زبان کو کس نے مار دیا اور اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟

Advertisement

اردو زبان کو کس نے مار دیا اور اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟






اردو زبان کو کس نے مار دیا اور اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟   
 ہماری پیدائش سے کچھ ہی بعد کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصلاحات دوران تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھی صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے مثلا ہیڈماسٹر فیس فیل پاس وغیرہ گنتی کاؤنٹنگ میں تبدیل نہیں ہوئی تھی ٹیبل نہیں کہلاتے تھے تھے
پچاس  کی دہائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں خداحافظ کی جگہ ٹاٹا سکھایا جاتا اور مہمان کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے پاپا کہلوایا جاتا زمانہ آگے بڑھا مزاج تبدیل ہونے لگے عیسائی مشنری اسکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی پرائیویٹ اسکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی پرائیویٹ اسکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری اسکولوں میں پرچے ہوا کرتے تھے پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچر بن گئے پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے
اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت کلاس میں تبدیل ہوگی اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلو بن گئے ہمیں بخوبی یاد ہے کہ پچاس کی دہائی میں جماعت اول  سے لیکردوم سوم چہارم پنجم ششم ہفتم ہشتم نہم اور دہم تک جماعت ہی ہوا کرتی تھیں اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا پھر ان کمرے کلاس روم  اور بات اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹ تفریح کی جگہ رسیس اور برے کے الفاظ استعمال ہونے لگے گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمروکیشن اور فرنٹ لوکیشن آگئی چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہوگیا پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپر کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی امتحانات کی جگہ ایگزام ہونے لگے ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈ ٹرم اور فائنل ایگزام کی اصلاحات آگئی اب طلباء امتحان دینے کے لیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ اسٹوڈنٹ ایگزامز کے لیے ایگزامینیشن سنٹر جاتے ہیں قلم دوات سیاہی ترتیب اور شریک جیسی اشیا گویا میں رکھ دی گئی جھگڑ لیگ کونسل جی لپٹن اور بال پین پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے پیج میں رکھ دیں میں ریاضی کو میتھ کہا جانے لگا اسلامک اسٹیڈی بن گئی گی ذرا طبیعات فزکس نے اور معاشیات اکنامکس میں سماجیات سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے

پہلے طلباء پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگی اساتذہ کے لیے میز اور کرسیاں لگانے والے ٹیچرز کے لئے ٹیبل اور چیر لگانے لگے داخلوں کے بجاۓ ایڈمیشن ہونے لگے اول دوم اور سوم آنے والے طلبہ فرصت سیکنڈ اور تھرڈ آنے والے اسٹوڈنٹ بن گئے پہلے اچھی کارکردگی پر اقدامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے بچی تالیاں پیٹنے کی جگہ چینج کرنے لگے یہ سب کچھ سرکاری اسکولوں میں ہوا ہے اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یقین اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دل دیا گیا خانے اور مردانہ تو کب کے ختم ہوگئے خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈروم کا نام دے دیا باورچی خانہ جنگیاں اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے غسل خانہ پہلے باتھ روم وا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے مکانوں میں منزل کو گراؤنڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور دروازہ دور کہلایا جانے لگا پہلے مہمان کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب دور بیل بجنے لگیں کمرے روم بن گئے کپڑے الماری کے بجاۓ کمبوڈ میں رکھے جانے لگی اب گا اور ہرطرف ڈی ڈی پاپا پاپا کی گردان ذی الحجہ کے پہلے تو پاپے رس صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے تھے اور اب بھی کھائے ہیں جاتے ہیں اسی طرح شہد کی طرف میٹھا لفظ امی یا کمی جان من میں اور مام میں تبدیل ہوگیا سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا چچا چچی تایا تائی ماموں ممانی پھوپھی خالو خالہ صدقے ایک غیر ادبی اور بی احترام سے لفظ نکل انکل اور آنٹی میں تبدیل ہوگئے بھٹو کے لئے ریڈی والے سے لیکر سگے رشتے دار تک سب انکل بن گئے یعنی محمودوایاز ضد ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے
ساری عورتیں آنٹیاں چچازاد ماموں ذات خالدات بہنیں اور بھائی سب کے سب بزنس میں تبدیل ہوگئے ہیں اور وہی جن سکیں نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد میں کیسے بچ گیا گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھی اور اب مسیحی گھروں میں سکون میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد میں کیسے محفوظ رہتی دکان شاپس میں تبدیل ہوگئی اور چلانے لگے آخر کیوں ہوتا کے دکاندار بھی تو سینڈ بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دیں اور شاپنگ کرنے لگے سڑکیں روڈ بن گئی کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی لگی یعنی جب سے تو مونث بنادیاگیا کریانے کی دکان جنرل سٹور کا روپ دھارلیا 
نائی نے پر بن کر حمام بند کر دیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہا بچتے پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی بن گیا اور منتھلی ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باز بن گئے ہیں بابو کرکٹ اور چپڑاسی پی این بن گئے پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آپ سٹینڈنگ کا بورڈ گیا سونگ جیسے کبھی بھول کو انٹرسٹ کہا جانے لگا تو بن گئی اور محبت کو دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تکبر سہی چھین لیا گیا صحافی رپورٹر بن بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نے سمجھنے لگے کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے اردو زبان کا زبان سب حکومت ہی ذمہ دار نہیں عام آدمی تک نے اس میں حصہ لیا ہے اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے خوبصورت زبان اردو کا مغرب سے مرعوب ہوکر کیسے بگاڑ لیا ہے اور الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود رہے اور مستعمل ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ہم کہاں سے کہاں آگئے اور کہاں جا رہے ہیں دوسروں کا کیا رونا روئیں ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں دوسرا کوئی نہیں بہت سے اردو الفاظ کو ہمیں انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کردیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جارہے ہیں اور روز بروز یہ عمل تیز تر ہوتا جارہا ہے خدارا روکی اور دو تو مکمل زوال پذیر ہونے سے روکیں


Post a Comment

0 Comments