زمین زندہ ہے
کسی دینی کتاب میں اس کی نظر اس جملے پر پڑی کہ زمین زندہ ھے سانس لیتی ھے اور اسے رزق بھی دیا جا رہا ھے۔یہ بات دریافت کرنے کے لئے اس نے بہت سے لوگوں سے بات چیت کی دین کے پیروکاروں سے پوچھا تو اسے یہی بات بتائی گئی کہ زمین سے مراد انسان حیوان چرند پرند نباتات و جمادات ہی تو ھیں اور ایک فوڈ چین کے زریعے سب آپس میں بندھے ہوئے کہیں رازق ھیں تو کہیں مرزوق ھیں۔لیکن یہ بات اس کی تسلی کے لئے ناکافی تھی سو اس کی تلاش بھی جاری رہی۔لیکن سوال کا جواب نہ ملنا تھا نہ ملا اور مایوسی بڑھتی چلی گئی اور جب مایوسی بڑھتی ھے تو انسان فطری طور پر رب کے قریب ہو جاتا ھے اور اپنی مراد پانے کے لئے دعا خود بخود اس کے ہونٹوں پر بسیرا کر لیتی ھے۔اور ایک وقت ایسا آتا ھے کہ دعا سے بھی یقین اٹھنے لگتا ھے اور انسان خدا کے وجود سے انکار پر کمر بستی ہو جاتا ھے اور یہی وقت قبولیت دعا ہوتا ھے بس چند ہی لمحوں میں مراد ملنے والی ہوتی ھے جو صبر کر کے رب سے جڑا رہے اسے فرشتوں کے زریعے عطا کر دیا جاتا ھے اور جو منکر ہو جائے اسے شیاطین کے زریعے پہنچا دیا جاتا ھے۔دونوں ہی صورتوں میں مراد تو حاصل ہو جاتی ھے مگر فرشتوں کے زریعے رحمت بن کر اور شیاطین کے زریعے زحمت بن کر۔خود اس کے اپنے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی۔
آج وہ اندر کی خلش سے بہت بے چین تھا دعائیں مانگتے مانگتے غنودگی کی کیفیت میں چلا گیا۔کیا دیکھتا ھے کہ سیاہ پہاڑوں کے دامن میں ایک غار کے دہانے پر کھڑا ھے جو اندر کی جانب ڈھلان کی صورت اترتی چلی جا رہی ھے۔اس نے غار میں اترنا شروع کر دیا جیسے جیسے وہ گہرائی کی جانب اترتا گیا اس نے محسوس کیا کہ حدت بڑھتی جا رہی ھے۔غار کی زمین چھت دیواروں میں بیشمار چھوٹے بڑے سوراخ آمنے سامنے ایسی دکھائی دیتے جیسے یہ نالیاں پہلے آپس میں ملی ہوئی تھیں مگر غار کی کھدائی نے انہیں جدا کر دیا تھا یقینا یہ زمین کی رگیں تھیں جن میں کبھی پانی بہتا تھا مگر اب سوکھ چکی تھیں اور پانی اپنا رستہ بدل کر کسی اور جانب جا چکا تھا۔جیسے جیسے وہ گہرائی کی جانب بڑھتا رہا گرمی بڑھتی گئی اور ان سوراخوں کا سائز بھی بڑھتا چلا گیا اس نے محسوس کیا جیسے اس کا جسم بھی پھیل کر بڑھتا چلا جا رہا ھے اور گہرائی کی جانب اس سفر میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا ایک ایک قدم دس دس میل اور پھر سو سو میل تک پہنچ گیا۔دائیں بائیں بڑے بڑے کھڈے کہیں نمک تو کہیں کوئلے سے بھرے دکھائی دیتے رہے کہیں غار کا سارا ماحول مٹی میں شامل چمکدار دھاتوں سے مزین تھا تو کہیں چمکدار پتھروں کی بہتات دیکھتا آگے بڑھتا رہا۔
بڑھتے بڑھتے دفعتا اسے ایک بہت بڑی دہکتی ہوئی بھٹی کا شور سنائی دینے لگا ایم موڑ مڑتے ہی عجیب منظر اس کی نظروں کے سامنے تھے زمین کے وسط میں یہ بہت بڑا خلا تھا جس میں آگ کا ایک دہکتا ہوا گولا تیزی سے گھوم رہا تھا جس کی جسامت کئی ہزار میل پر محیط تھی مگر ان دیکھی قوتوں نے اسے فضا میں تھام رکھا تھا اور اس کے گرد ایک جانب سیاہ تو دوسری جانب مختلف رنگوں کے بادل کسی انجان سمت میں بھاگتے چلے جا رہے تھے۔
گرمی کی شدت بہت زیادہ تھی مگر دائیں جانب سے کبھی کبھی نسبتا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا محسوس ہوتا اس لئے اسی طرف چل پڑا چند ہزار میل کا سفر کر کے اس جگہ پہنچا جہاں کئی کئی سو میل قطر کے غار اس ماحول میں کھل رہے تھے جن سے بہتا ہوا دریاؤں برابر پانی یہاں پہنچتے ہی گرم توے پر مارے جانے والے پانی کے چھینٹے کی مانند چھسسس کی آواز کے ساتھ بھاپ میں تبدیل ہو رہا تھا مگر یہ آواز ہزاروں بادلوں کے ٹکرانے اور بجلیوں کی خوفناک کڑک جیسی مہیب تھی اور دل پر ہیبت طاری کر رہی تھی۔اور یہ گڑگڑاہٹ جیسی آواز اس پانی میں بہہ کر آنے والی کچھ ٹھوس چیزوں کے پھٹنے سے پیدا ہو رہی تھی۔جب اس نے ان ٹھوس چیزوں پر غور کیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی سطح زمین پر انسانوں کے زیر استعمال ہر چیز لوہا لکڑی پلاسٹک کپڑا جزئیات کی صورت اس میں بہتی چلی آ رہی تھیں۔اور آگے جانے کا کوئی راستہ نہ ملا تو واپس چل پڑا اور مرکز زمین سے بائیں جانب آگے بڑھتا چلا گیا جس طرف مختلف رنگوں کے بادلوں کا ایک ہجوم کسی منزل کی جانب محو سفر تھا۔ایم مقام پر پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے بیشمار بڑے بڑے غاروں کے دہانے کھلے ھیں اور یہ بادل الگ الگ ہو کر مختلف غاروں میں داخل ہو رہے ھیں۔سب سے قریبی غار میں سفید بادل داخل ہو رہے تھے سو وہ بھی اسی جانب چل پڑا سینکڑوں میل یہ کھلا غار ہر چند ہزار میل کے بعد کئی شاخوں میں تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا تھا ۔
اس نے محسوس کیا کہ جیسے جیسے غاروں کا سائز کم ہوتا جا رہا ھے اس کا وجود بھی سکڑتا چلا جا رہا ھے۔اور ساتھ ساتھ گرمی بھی کم ہوتی چلی جا رہی تھی۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ یہ سفید بادل پانی کی شکل اختیار کرنے لگے اور وہ پانی پیچھے سے آنے والے مسلسل پریشر کی وجہ سے زمین کی بلندیوں کی جانب پہلے دریا پھر نہر اور پھر نالوں کی صورت تیزی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھا۔اب وہ جس نالے میں سفر کر رہا تھا اس کا سائز چھوٹا ہونا شروع ہوا تو کھڑے ہو کر اس میں چلنا مشکل ہو گیا اس نے لیٹ کر خود کو پانی کے بہاؤ پر چھوڑ دیا۔بہتے بہتے آس پاس کے مناظر ایک جیسے تھے بیشمار چھوٹی چھوٹی نالیاں اس نالے سے الگ ہو رہی تھیں۔جو آگے مزید باریک نالیوں میں تقسیم ہوتی جا رہی تھیں۔
اس نے محسوس کیا کہ اب اس کا جسم نارمل سائز کا ہو چکا ھے اور وہ ایک ایسی سوراخ میں پھنس چکا ھے جس میں حرکت کرنا ممکن نہیں رہا اور اس کا دم گھٹنے لگا ھے اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا ھے اور خاموشی نے ماحول کو خوفناک بنا دیا ھے جہاں دل کی دھڑکن بھی ایسی محسوس ہو رہی ھے جیسے زمین کے مرکز میں دہکتی ہوئی اس بھٹی کی آواز تھی۔اسے اپنی موت صاف دکھائی دینے لگی یہاں سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔جب مایوسی حد سے بڑھنے لگی تو دعا خود بخود اس کی زبان سے جاری ہو گئی۔اسے اپنی آنکھوں سے گرم گرم بہتے آنسو اس ٹھنڈے پانی سے الگ محسوس ہو رہے تھے جو قبر کی دیواروں کی صورت اس کے چاروں طرف تھا۔دفعتا کہیں دور سے اذان کی آواز سنائی دینے لگی وہ دعا مانگنے لگا کہ اے اللہ مجھے اس قید سے نجات عطا فرما جو میں نے اپنی جستجو کے پاگل پن میں خود پر مسلط کر لی ھے۔وہ سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میں نے تلاش کیا جو کچھ دیکھا کیا میں یہ سنانے کے لئے زندہ رہ پاوں گا۔مگر اندر سے جواب نفی میں سنائی دے رہا تھا۔شیطان اسے مایوسی کی جانب دھکیل رہا تھا۔
قریب ہی سے کچھ آوازیں سنائی دینے لگیں کہ پتہ نہیں آج چشمے کا پانی کیوں رک گیا ھے نماز کا وقت نکلا جا رہا ھے شاید کوئی پتھر چشمہ کے دہانے پر گر گیا ھے۔آو دیکھتے ھیں پھر آواز سنائی دی یہ تو کسی کا ہاتھ ھے شاید کوئی بندہ غلطی سے چشمہ کے دہانے میں گر گیا ھے۔پھر کسی نے اس ہاتھ کو تھام کر کھینچنا شروع کیا اور وہ پھسلتا ہوا باہر پانی کی قدرتی تالاب میں جا گرا اور چشمہ کا پانی ابل ابل کر باہر آنے لگا۔کچھ اور لوگ بھی آ کر وہاں جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیا واقعہ ہوا۔
وہ جو ان کی باتیں سن چکا تھا۔کہنے لگا اندھیرے میں سفر کرتے ہوئے سمجھ نہیں پایا گر گیا تھا۔جلدی سے وضو کریں فجر کا وقت نکلا جا رہا ھے۔سب نے وضو کر کے باجماعت نماز پڑھی اور اپنے اپنے رستے ہو لئے۔کچھ دیر بعد دور افق پر روشنی کا ہالہ سورج بن کر چمکنے لگا۔سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں پر پڑ رہی تھیں اور زہن روشن ہوتا جا رہا تھا۔
اور پھر یکدم سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹ آیا
وہ جان چکا تھا زمین کے سانس لینے اور زندہ ہونے کا راز کیا ھے اسے کہاں سے رزق مل رہا ھے اور اس کے سینے میں دھڑکتا ہوا آگ کا گولا اس کا دل ھے۔پانی اس کا پسینہ تیل اس کی رگوں میں بہتا خون ھے۔سارے انسانوں کی استعمال شدہ اشیاء ان کی باقیات و غلاظتیں ہی زمین کا رزق ھے۔زمین کی زندگی اس چھوٹی سی شمع سے چلنے والی ٹیم کی کشتی کی طرح ہی تھی۔جو ایک سوراخ سے پانی کھینچ کر دوسری سوراخ سے باہر دھکیلتی ھے اور شمع کا ننھا سا شعلہ جو اس کی ٹینکی کو گرم کر کے حرکت دینے کا موجب ہوتا ھے اس کا رزق ہوتا ھے اور رزق اتنا ہی کافی ہوتا ھے جو زندگی کو رواں دواں رکھے اس کی کثرت کشتی کو ڈبو دیتی ھے۔
وہ سب کچھ جان چکا تھا مگر اس کی نماز قضا ہو چکی تھی۔اب ایک ہی کام بچا تھا کہ استغفار کر کے اپنی قضا نماز ادا کر لئے

0 Comments