افسانچہ
دوران خان درانی
ایکایک تمام شیاطین کا کانوں سے لگے ہینڈز فری میں پرانے خراب ریڈیو کی آواز جیسی چرچراہٹ کی زہن کو اذیت دینے والی آواز بلند ہوئی اور سب کے سب اپنے اپنے کام چھوڑ کر جنوب کی طرف رخ کر کے سجدے میں گر گئے۔ان کے اجسام پر لرزہ طاری تھا اور خوف سے ان کے تمام سوراخوں سے غلاظت بہہ نکلی تھی۔اور اس تنبیہہ ابلیس کو سننے کے لئے ان کا تو جیسے سارا وجود کان بن گیا تھا
اور پھر وہ منحوس ترین اور کرخت آواز ان کی سماعتوں میں اترنے لگی۔
ابلیس کے پیروکاروں تمام پر اللہ اور اس کی تمام نیک مخلوقات کی لعنت سدا سلامت اور جاری و ساری رہے۔
تم سب جانتے ہو کہ اللہ نے دنیا کی ہو چیز کے لئے حدود مقرر کر رکھی ھیں۔چاہے نیک لوگوں کے دینی اعمال ہوں یا ھمارے اعمال بد ہر چیز کی حدود مقرر ھیں ۔سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھے۔کہ اے جنو اور انسانو اگر تم میں طاقت ھے تو نکل جاؤ آسمانوں اور زمینوں کی ان قطاروں سے باہر مگر تم نہیں نکل سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔
بیشک میں ابلیس ہوں تم سب نے مجھے خدا مانا ھے مگر میں بھی اسی اللہ کی تخلیق اور اس کے آگے عاجز و مجبور ہوں۔مجھے آج تمھارے کرتوتوں پر ایک طرف تو شدید غصہ تو دوسری طرف تم سے ھمدردی بھی ہو رہی ھے۔غصہ اس بات کا کہ تم میرے احکام کی تعمیل میں بہت آگے نکل جاتے ہو اور جو کچھ حکم سے بڑھ کر کرتے ہو میں تمھیں اس کی سزا سے تحفظ دلانے کی اوقات نہیں رکھتا۔
تم ہو انسان کے وجود کا لازمی حصہ ہو میں نے تمھیں شراب پینے کا کہا مگر نشے میں دھت تم کسی کا قتل کر دیتے ہو کسی کی عزت لوٹ لیتے ہو ۔میں نے تمھیں ڈاکے ڈالنے چوری کرنے کا کہا مگر تم نے چوری کر کے گھر کو آگ لگائی ڈاکہ ڈالتے ہوئے مالک مکان کی بیٹی دیکھ کر تمھارا دل للچایا اور تم نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔میں نے تم سے کہا اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے لئے معصوم بچوں کو گود میں بٹھا کر انہیں چومو چاٹو مگر تم نے ان کے ساتھ زیادتی بھی کی اور اپنی گرفت کے ڈر سے قتل بھی کرتے رہے تم نے نہ صرف میرے قانون کو توڑا بلکہ نیک اور محرم رشتوں کا تقدس بھی پامال کیا جس کی ازلی معاہدے کے تحت ھمیں اجازت نہیں تھی۔اور یوں تم نہ صرف میرے بلکہ اللہ کے بھی مجرم ہو۔سود پر پیسہ دے کر لوگوں کی دولت و جائیداد ہتھیانے کا میں نے کہا مگر ان کی عورتوں کو سود کے بدلے ہر طرح سے تم نے خود برباد کیا خود عیش کی پھر دوسروں پر بیچا ہر چیز کی حد ہوتی ھے مگر تم نے تو کوئی حد نہیں چھوڑی۔تمھارا مذہب خدا کا قانون توڑنے کی اجازت دیتا ھے مگر تم نے تو قانون ابلیسی کو بھی نہیں بخشا۔
مجھے لگتا ھے کہ بہت جلد قیامت نافذ ہونے والی ھے اور ھم ابھی تک وہ اہداف حاصل نہیں کر پائے جن کے لئے تم سب پیدا کئے گئے ہو ورنہ اولاد آدم نادم ہو گئے اور انہوں نے ھم سے پہلے معافی تلافی کر لی تو ھمیں ہار ماننی پڑے گی۔ھمیں مہلت کی اشد ضرورت ھے اس کے لئے ھمیں کل عالم کے شیاطین کا اجتماع کر کے گریہ و زاری کرنی ہو گی کہ اولاد آدم کو بہکانے اور رزق جہنم بنانے کے لئے تھوڑا وقت اور مل جائے۔
تمام حاضرین محفل پر خوف و دہشت طاری تھی اور وہ محسوس کر رہے تھے کہ انہیں ابلیس کے بجائے رب واحد کی بیعت کر لینی چاہئے۔اور یہی وقت تھا جس کا ابلیس کو انتظار تھا۔اس نے ایک مہیب قہقہہ بلند کیا اور دیر تک ہنستا ہی چلا گیا شرکاء محفل پہلے حیران ہوئے پھر ان کا خوف گھٹتے گھٹتے ختم ہو گیا اور ان کے ناپاک قہقہوں سے زمین لرزنے لگی۔وہ جان چکے تھے کہ آقائے زلیل ان کی بریت کا کوئی نکتہ تلاش کر چکا ھے۔
قہقہے رکتے ہی ابلیس نے کہا میرے بچو گھبراؤ مت ھمارے بتائے اور سکھائے ہوئے گناہوں سے بڑھ کر جو کچھ ابن آ دم نے کیا ھے اس کے لئے اس کی اپنی نفسانی خواہشوں اور لذت پرستی کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ھم خود کو اللہ کی حدود کے اندر ثابت کر کے اللہ کے غضب سے بچ جائیں گے اور جہنم کا رزق میرے ازلی دشمن آدم کی اولاد ہی بنے گی۔
یہ اعلان سنتے ہی ابلیس زندہ باد شیطان اعظم زندہ باد کے نعروں سے زمین کا کونا کونا گونجنے لگا۔
دوران خان درانی

0 Comments