اسلامی عقائدو معلومات

Advertisement

اسلامی عقائدو معلومات

اسلامی عقائدو معلومات
قرآن پاک کے بارے میں عقائد و معلومات 
یہ اللّٰه عزوجل کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو اس نے اپنے آخری نبی محمد مصطفےٰ صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی۔ 
قرآن مجید اللہ کی وہ عظیم کتاب ہے جس سےکو پڑھنے سےہر ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں انعام ملتی ہیں 
مکمل قراٰنِ کریم یکبارگی (اکٹھا، ایک ہی بار میں) شبِ قدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اُتارا

پھر وہاں سے حضرت جبریل علیه السلام تقریباً 23 سال کے عرصے میں حالات و واقعات کے مطابق تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوتے رہے۔
  قرآن مجید کیا آج بھی کتابی ترتیب وہ ہی ہے جو لوح محفوظ پر ہے 
قراٰنِ کریم جیسا کلامِ بلیغ بلکہ اس جیسی ایک آیت بھی تمام جن و اِنس مل کر نہیں بنا سکتے، اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کر سکتے ہیں، جو کوئی قراٰن میں کسی کمی بیشی کا عقیدہ رکھے کافر ہے۔
قراٰنِ کریم میں ہر خشک و تَر کا بیان ہے
قراٰنِکریم کی تفسیر: عہدِ رسالت میں دو طریقے سے ہوئی تھی 1سورتوں کے اعتبار سے (2) منزلوں کے اعتبار سے، یعنی قراٰنِ کریم کی سات منزلیں کی گئی تھیں تاکہ تلاوت کرنے والا ایک منزل روزانہ کے حساب سے سات دن میں قراٰن ختم کر سکے پھر اس کے بعد قراٰنِ کریم کے تیس (30) حصّے برابر کئے گئے، جس کا نام تیس پارے رکھا گیا تاکہ تلاوت کرنے والا ایک پارہ روز کے حساب سے ایک ماہ میں قراٰن ختم کر سکے
پہلےنقطےنہیں لگائےجاتے تھے: شروع میں جب قراٰنِ کریم کو لکھا جاتا تو اس کے حروف میں نقطے، حَرَکَات و سَکَنات (یعنی زیر، زبر، پیش اور جزم)، اعراب اور رموزِ اوقاف (ط، م، قف، لا، ج وغیرہ) نہ لگائے جاتے تھے کیونکہ اہلِ عرب اپنی زبان اور مُحاوَرَہ کی مدد سے نقطوں اور حرکات و سکنات کے بغیر پڑھ لیتے تھے۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضیَ اللّٰه تعالیٰ عنه نے جو مُصحَف تیار کروایا تھا وہ بھی ان تمام چیزوں (یعنی نقطوں اور اعراب وغیرہ) سے خالی تھا۔ اس میں زیر، زبر وغیرہ بعد میں لگائے گئے، مشہور یہ ہے کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے کیا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کام ابو الاسود الدؤلی تابعی (متوفّٰی:69 ہجری) نے کیا

خلیل ابن احمد فراعیدی نے مد،اور وقف وغیرہ کی علامات لگائیں

مامون عباسی کے دور میں قراٰنِ کریم میں رُبع، نِصف، ثلٰثه اور رکوع کے نشانات لگائے گئے، رکوع کے لئے معیار یہ رکھا گیا کہ حضرت سیّدنا عثمان غنی رضی اللّٰه تعالیٰ عنه تراویح کی نماز میں جس قدر قراٰن پڑھ کر رکوع فرماتے تھے، اتنے حصے کو رکوع قرار دیا گیا اس لئے اس کے نشان پر قراٰنِ کریم کے حاشیہ پر “ع” لگا دیتے ہیں، بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ عمرو کے نام کا عین ہے، بعض کہتے ہیں عثمان کے نام کا عین ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظِ رکوع کا عین ہے۔ 

اللّٰه تعالیٰ ہمیں قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میری ہمیشہ اللہ سے یہ دعا ہے ائے  اللہ ہر مسلمان کی عادت ایسی بنا دے کہ صبح شام قرآن کی تلاوت لازم ہو جائے

Post a Comment

0 Comments