عبرت کدہ
کہاں ہیں وہ سیکیولر ،لبرل ملحدین جو کہا کرتے تھی کہ یہ تو اللہ کا عذاب ہے تو امریکہ اور مغربی دنیا میں کیوں نہیں آتا جہاں فہاشی عریانی اور جنسی بے راہ روی سمیت تمام برائیاں عروج پر ہیں کڈھر ہیں وہ دانشور جو اللہ کے فیصلوں پرطعن وتشنیع کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اللہ کا عذاب صرف غریبوں پر ہی کیوں آتا ہے دیکو جن ملکوں نے زلزلوں سے بچنے کے لیئے انتظامات کر لیئے ہیں وہاں اللہ کا عذاب زلزلے کی صورت میں آبھی جائے تو وہ انکا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔لیکن آج تو اس ٹیکنالوجی کو پوجنے والوں کا سب سے بڑا بت امریکہ اپنی تمام تر طبی مہارت اور مادری وسائل کے باوجود اللہ کے اس عذاب کا سب سے بڑا شکار ہے اقوام متحدہ کی پانچ مستقل عالمی طاقتوں میں سے وہ تین یعنی امریکہ۔برطانیہ اور فرانس جو گزشتہ ایک سو سال سے کمزور ملکوں پر فوج کشی کے ذریعے قتل وغارت کا لائسنس دیا کرتی تھیں ‘آج کس ودر بے بس ہیں یہ تینوں عددی اعتبار ے کرونا کا شکار ہونے والے پہلے پانچ ممالک میں شامل ہیں
یہ ہی تین ممالک گزشتہ سوسال سے فحاشی۔عریانی اور پورنوگرافی ‘فیشن انڈسٹری کے ذریعے نسوانی استحصال ہم جنس پرستی مساج پارلرز اور ایکسورٹس کے نام پر جسم فروشی برہنا ساحل انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی آڑ میں توہین مذہب ۔ الحاد اور اسلام دشمنی جیسی کئی خرافات کے مرکز ہیں
انہی تینوں ممالک میں سب سے جدید سیکیولر لبرل اور لادین مغربی تہذیب کا بیج بویا گیا فیشن انڈسٹری جس کی آڑ میں فحاشی کو عروج ملتا ہے وہ فرانس میں پیدا ہوئی اور پھر اٹلی نے اسے بام عروج پہنچایا چین کیمونسٹ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ماوزے تنگ کے ثقافتی انقلاب کے تین برسوں (1966سے1969 میں دوکروڑ لوگوں کو قتل کرکے ایک لادین ثقافت کا آغاز کیا اور آج تک اس پر قائم ہےجبکہ اس کا ساتھی کیمونسٹ روس انقلاب کے زوال کے بعد مذہب کی جانب لوٹ چکا ہے اور آج وہاں ہر سال 1200چرچ تعمیر ہورہے ہیں پیوٹن فخر سے کہتا ہے ہم ایک عیسائی روس ہیں اور امریکہ ایک سوویت ہم جنس پرست یونین ہےدونوں قدیم کیمونسٹ ریاستوں میں اللہ نے فرق واضح کردیا ہےسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ستاون کے قریب مسلمان ممالک میں کرونا کے شکار مریضوں کی تعداد آٹے میں نمک کے بابر ہےمسلمان ممالک میں فہرست کے اعتبار سےآخری 93 ممالک میں شامل ہیں
۔صومالیہ-چاڈ۔گیمبیا۔شام۔سوڈان۔موریطانیہ۔بنین۔گیبون۔گھانا۔نائجیریا۔مالی۔جبوتی۔مالدیب۔یوگنڈا۔ٹوکو۔اور پاکستان سمیت جتنے بھی اور ممالک ہیںسب نچلی سطع پر ہیں پاکستان کو بھی گیارہ ستمبر کے بعد سیکیولر لبرل ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف سے لے کر اب تک کے جرائم پر نظر ڈالنی چاہیئے اور سیکیولر لبرل جمہوریت کے نام پر اس وقت جو الحاد وفحاشی پرورش پارہی ہے ا پر استغفار کرنا چاہیئےورنہ ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں ہم بھی پہلے دس ممالک کی فہرست میں آکر نہ کھڑے ہوجائیں کیونکہ ابھی تک اللہ کے عذاب کا کووڑا تھما نہیں ہے
یہی حال سعودی عرب کا ہے ہمارے سیکیولر لبرل محققین کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ ریسرچ کے ڈیٹا کا بہت استعمال کرتے ہیں اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لیئےاعداد وشمار کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں جیسے کہ جہاں اسلام ہے وہاں غربت ہےجہاں صاف پانی کی سہولت نہیں وہاں بیماریاں ہیں جہاں جمہوریت نہیں وہاں قحط اور پسماندگی ہے لیکن آج میرے اللہ نے ان کا تمام سیکیولر لبرل ملحدین کا تمام ریسرچ ڈیٹا ان کے منہ پے مار دیا ہےاللہ نے اپنے عذاب کے لیئےآج وہ ممالک منتخب کیئے ہیں جنکی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے بلند سطع پر ہے یہ ممالک سائنس خاص کر میڈیکل سائنس میں بلند ترین معیار رکھتے ہیں صاف پانی اور حفظان صحت کی سہولیات کےاعتبار سے بھی بہترین ہیں جمہوریت بھی مستحکم ہے لیکن ان سب کی موجودگی میں اللہ نے ان پرعذاب مسلط کیا کہ انہیں بے بس کر کے رکھ دیا
اللہ کی اس واضح نشانی کے باوجود بھی ہدایت کی طلب سے محروم سیکیولر لبرل ملحد کبھی نہیں مانیں گے یہ تو ابھی کل کی بات ہے دنیا کی جدید تریں ٹیکنالوجی کا بت امریکہ میرے اللہ کی نصرت سے نہتے طالبان کے ہاتھوں پاش پاش ہوالیکن کون مانتا ہے یاد رکھو یہ میرے اللہ کا نازل کردہ عذاب ہے جس نے تمھارے چہرے پر تمھاری ساری دلیلیں پٹخ دی ہیں اللہ ج ب چاہے گا وہ اسے تم پر مسلط رکھے گا اور جب چاہے گا انسانوں کو توفیق دے گاکہ وہ اس کا علاج دریافت کر لیں اللہ اسے وحی جبلی کہتا ہے یعنی وہ کسی انسان کے دماغ میں علاج یا دریافت وحی کر دیتا ہے اگر تم اتنے ہی طاقت ور ہوکہ اللہ کی ٹائم لائن سے پہلے ہی کرونا کا علاج دریافت کر سکتے ہو تو پھر دعویٰ کرو کہ ہم کل سے اللہ کے اس عذاب کا شکار کسی بھی شخص کو مرنے نہیں دیں گے لیکن تم ناکام و نامراد لوٹو گے اس وقت تک ناکام رہو گے جب تک میرے اللہ کا فیصلہ نہیں آجاتا

0 Comments