السلام علیکم دوستو جب بات ہوتی ہے بلوچستان کی تو سب سے پہلا نام چکن میں آتا ہے کیونکہ مچ دو وجوہات سے مشہور ہے ایک تو سنٹرجیل مچ جو کہ بہت پرانا اور سب سے سخت جیل ہے اس کی وجہ سے مشورے اور دوسرا کوئی نہ نکلنے کی وجہ سے اب جب بات آتی ہے کوئلے کی تو کوئلہ کتنا نکلتا ہے اس کے بارے میں آپ کو بتاتا ہوں
ناظرین میں جو مختلف جگہوں پر جگہ جگہ آپ کو بہت بڑی سرنگ نظر آئیں گی کوئلے کی جن کو وہاں سیلنٹ کہا جاتا ہے ان کے مختلف نمبر دیے جاتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے سیلنٹ کون سی جگہ پر موجود ہے کون سا سوراخ کون سی جگہ پر موجود ہے اگر بات کرتے ہیں ان کی گہرائی کی تو یہ کتنے گہرے ہوتے ہیں تو یہ کم سے کم پانچ سو فٹ سے لے کر تین ہزار فٹ تک گہرے ہوتے ہیں جہاں پر مختلف مزدور اندر جا کر کوئلہ نکالتے ہیں اور یہ اس جدید دور میں بھی بہت پرانے طریقے سے کوئلہ آج بھی نکالا جاتا ہے
اگر بات کرتے ہیں وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کی توبہ جان جوکھم میں ڈال کر اتنی گہرائی میں جا کر کام کرتے ہیں جن کا معاوضہ وہاں کے لوگوں کے بقول ان کو ایک ہزار پندرہ سو یا دو ہزار تک ملتا ہے اگر ان کی مزدوری ہم اپنی کمائی سے کمپئر کریں تو ہمیں اللہ کا ہر حال میں ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی اللہ رزق عطا فرما دیتے ہیں
مگر جب یہ کوئلہ باہر نکالا جاتا ہے تو اس کو مختلف حصوں میں الگ کیا جاتا ہے جب وہ اسے کوئی نہ نکلتا ہے تو اس میں سے تین چار قسم کا کوئی کوئلہ نکلتا ہے ایک تو وہ ہوتا ہے جو بالکل بیکار ہوتا ہے اسے الگ کرکے پھینک دیتے ہیں مگر اس میں زیادہ پتھر ملاوٹ ہوتا ہے ایک دوسرا ہوتا ہے جس سے گھروں میں استعمال کیا جاتا ہے اس سے الگ کیا جاتا ہے اور ایک جو فیکٹریوں میں جو مختلف انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے اسے الگ کردیا جاتا ہے اور پھر اس کو فی ٹن کے حساب بیچا جاتا ہے
ناظرین جو کوئلہ انڈسٹری کے استعمال کے لیے ہوتا ہے وہ ٹنوں کے حساب سے ٹرک میں لوٹ کر گھر جاتا ہے ایک دس ویلر ٹرک کے اندر 30 سے 35 یا 40 ٹن کوئلہ لوڈ کیا جاتا ہے جس سے پورا دن 8 سے 10 مزدور لوڈ کرتے ہیں اور ان کی جو مزدوری ہے وہ آٹھ سے دس مزدوروں کو 60 ہزار روپے تک ملتی ہے مطلب 800 روپیہ پر ڈی ریلی کے آٹھ سو روپیہ ایک دن کا ایک مزدور کو ملتا ہے جس میں محنت بہت زیادہ لیکن اس کا معاوضہ بہت کم ہوتا ہے اگر ان کی نسبت بھی ہم خود کو دیکھیں تو پھر بھی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں تھوڑی محنت میں اللہ زیادہ رزق عطا کرتا ہے
ناظرین دن لوگوں نے مچ نہیں دیکھا اگر ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ مچ کوئٹہ کے نزدیک ہے تو کوئٹہ کی طرح اس کا موسم بھی ٹھنڈا ہوگا تو یہ بالکل غلط ہے یہ کافی گرم ہے اور اس کا موسم بلکل اس کے برعکس ہے مطلب مچ کا موسم بہت گرم ہے بالکل سبی یا ملتان جن کی گرمی کی مثالیں دی جاتی ہیں مچ بھی سبی کی طرح ہی گرم ہے
مچ میں جتنے عرصے سے کوئلہ نکالنے جا رہا ہے اور جتنا کوئلہ نکل چکا ہے اگر اس حساب سے ہم ان پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہاڑ بالکل کھوکھلے ہو چکے ہیں اوپر سے تو پہاڑ ہیں لیکن اندر سے یہ بالکل خالی کیئےجا چکے ہیں اور بہت سارے اس میں سے غیر محفوظ بھی ہیں جس میں سے بہت جانی نقصان بھی ہوتا ہے تو ہماری دعائیں ہیں یہاں پہ جتنے مزدور کام کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کے رزق میں برکت عطا فرمائے

0 Comments