Balochistan Koyla ki kahani | mach kola kaese nikala jata hai 2021

Advertisement

Balochistan Koyla ki kahani | mach kola kaese nikala jata hai 2021


 السلام علیکم دوستو جب بات ہوتی ہے بلوچستان کی تو سب سے پہلا نام چکن میں آتا ہے کیونکہ مچ دو وجوہات سے مشہور ہے ایک تو سنٹرجیل مچ جو کہ بہت پرانا اور سب سے سخت جیل ہے اس کی وجہ سے مشورے اور دوسرا کوئی نہ نکلنے کی وجہ سے اب جب بات آتی ہے کوئلے کی تو کوئلہ کتنا نکلتا ہے اس کے بارے میں آپ کو بتاتا ہوں


ناظرین میں جو مختلف جگہوں پر جگہ جگہ آپ کو بہت بڑی سرنگ نظر آئیں گی کوئلے کی جن کو وہاں سیلنٹ کہا جاتا ہے ان کے مختلف نمبر دیے جاتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے سیلنٹ کون سی جگہ پر موجود ہے کون سا سوراخ کون سی جگہ پر موجود ہے اگر بات کرتے ہیں ان کی گہرائی کی تو یہ کتنے گہرے ہوتے ہیں تو یہ کم سے کم پانچ سو فٹ سے لے کر تین ہزار فٹ تک گہرے ہوتے ہیں جہاں پر مختلف مزدور اندر جا کر کوئلہ نکالتے ہیں اور یہ اس جدید دور میں بھی بہت پرانے طریقے سے کوئلہ آج بھی نکالا جاتا ہے

اگر بات کرتے ہیں وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کی توبہ جان جوکھم میں ڈال کر اتنی گہرائی میں جا کر کام کرتے ہیں جن کا معاوضہ وہاں کے لوگوں کے بقول ان کو ایک ہزار پندرہ سو یا دو ہزار تک ملتا ہے اگر ان کی مزدوری ہم اپنی کمائی سے کمپئر کریں تو ہمیں اللہ کا ہر حال میں ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی اللہ رزق عطا فرما دیتے ہیں 


مگر جب یہ کوئلہ باہر نکالا جاتا ہے تو اس کو مختلف حصوں میں الگ کیا جاتا ہے جب وہ اسے کوئی نہ نکلتا ہے تو اس میں سے تین چار قسم کا کوئی  کوئلہ نکلتا ہے ایک تو وہ ہوتا ہے جو بالکل بیکار ہوتا ہے اسے الگ کرکے پھینک دیتے ہیں مگر اس میں زیادہ پتھر ملاوٹ ہوتا ہے ایک دوسرا ہوتا ہے جس سے گھروں میں استعمال کیا جاتا ہے اس سے الگ کیا جاتا ہے اور ایک جو فیکٹریوں میں جو مختلف انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے اسے الگ کردیا جاتا ہے اور پھر اس کو فی ٹن کے  حساب بیچا جاتا ہے

ناظرین جو کوئلہ انڈسٹری کے استعمال کے لیے ہوتا ہے وہ ٹنوں کے حساب سے ٹرک میں لوٹ کر گھر جاتا ہے ایک دس ویلر ٹرک کے اندر 30 سے 35 یا 40 ٹن کوئلہ لوڈ کیا جاتا ہے جس سے پورا دن 8 سے 10 مزدور لوڈ کرتے ہیں اور ان کی جو مزدوری ہے وہ آٹھ سے دس مزدوروں کو 60 ہزار روپے تک ملتی ہے مطلب 800 روپیہ پر ڈی ریلی کے آٹھ سو روپیہ ایک دن کا ایک مزدور کو ملتا ہے جس میں محنت بہت زیادہ لیکن اس کا معاوضہ بہت کم ہوتا ہے اگر ان کی نسبت بھی ہم خود کو دیکھیں تو پھر بھی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں تھوڑی محنت میں اللہ زیادہ رزق عطا کرتا ہے


ناظرین دن لوگوں نے مچ نہیں دیکھا اگر ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ مچ کوئٹہ کے نزدیک ہے تو کوئٹہ کی طرح اس کا موسم بھی ٹھنڈا ہوگا تو یہ بالکل غلط ہے یہ کافی گرم ہے اور اس کا موسم بلکل اس کے برعکس ہے مطلب مچ کا موسم بہت گرم ہے بالکل سبی یا ملتان جن کی گرمی کی مثالیں دی جاتی ہیں مچ بھی سبی کی طرح ہی گرم ہے 

 مچ میں جتنے عرصے سے کوئلہ نکالنے جا رہا ہے اور جتنا کوئلہ نکل چکا ہے اگر اس حساب سے ہم ان پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہاڑ بالکل کھوکھلے ہو چکے ہیں اوپر سے تو پہاڑ ہیں لیکن اندر سے یہ بالکل خالی کیئےجا چکے ہیں اور بہت سارے اس میں سے غیر محفوظ  بھی ہیں جس میں سے بہت جانی نقصان بھی ہوتا ہے تو ہماری دعائیں ہیں یہاں پہ جتنے مزدور کام کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کے رزق میں برکت عطا فرمائے

Post a Comment

0 Comments