چمن بارڈر کے نام پر فراڈ سے ہوشیار رہیں
قارئین چمن بارڈر کے نام پر فراڈ اتنا زیادہ بن گیا ہے کہ اس پر ویڈیو بنانا لازمی ہو گئی تھی روزانہ لوگوں کی شکایت موصول ہو رہی تھیں اور ان کو نہیں پتہ چل رہا تھا کہ فیس بک پہ جتنے بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے پیجز ہیں ان میں سے کون سے اصل ہیں اور کون سے فراڈہیں تو ان کی وجہ سے یہ ویڈیو بنانا لازمی ہوگئی تھی لیکن یہاں پہ ایک ویڈیو بنائی ہے وہاں پے یہ پوسٹ لگانے بھی لازمی ہو گئی ہے تاکہ جو لوگ ویڈیو نہیں دیکھ سکتے جو لوگ ویب سائٹ کو وزٹ کرتے ہیں تو ان کو اس چیز کے بارے میں علم ہو جانا چاہیے
قارئین کرام اس وقت فیس بک پہ جتنے بھی نان کسٹم پیڈ کے حوالے سے گروپ چل رہے ہیں ان میں سے 70 پرسنٹ جو ہیں وہ ہیں کہیں اس میں سے 25 پرسنٹ اصل ہیں اگر آپ یہ سوچیں گے کہ جو 75 پرسنٹ کہاں سے آتے ہیں تو یہاں پر میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ ویش بارڈر افغانستان پاکستان کے چمن شہر سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں تمام پاکستانی نیٹ ورک کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کے پاس بہت سارے پاکستانی شناختی کارڈ بھی ہیں ان لوگوں نے بہت سارے نان کسٹم پیڈ گاڑیون کا پیج بنا رکھے ہیں اور یہ بات بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ ہمسایہ ملک میں بیٹھ کر ہمارے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے
ہم یہاں پہ میں آپ کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جتنے پیج اس وقت فیس بک پر چل رہے ہیں جتنے گروپس اس وقت فیس بک پر چل رہے ہیں نان کسٹم پیڈ کے حوالے سے ان میں سے 25 پرسنٹ پاکستان میں ہیں جو کہ اورجنل ہیں جو 25 پرسنٹ اصل گروپ ہے یا جو 25 پرسنٹ حاصل ہے وہ آپ کو گاڑیاں تو دکھاتے ہیں اپنا کانٹیکٹ نمبر بھی دیتے ہیں لیکن وہ آپ سے کبھی بھی نہیں کریں گے فون پر وہ آپ سے ایک روپیہ بھی نہیں مانیں گے وہ آپ کو یہ بتائیں گے کہ ہمارے پاس یہ گاڑیاں موجود ہے اور ان پر اتنی قیمت کی ہیں آپ آئیں ہمارے شہر کو وزٹ کریں گاڑی کو سامنے دیکھیں پسند کاریں اور خریدیں باقی تمام معاملات سامنے طے کرتے ہیں
اب بات کرتے ہیں جو 75 فیصد ہے کہ کہیں جو جعلی گروپ سے وہ کیا کرتے ہیں سب سے پہلے تو بہت اچھی اچھی گاڑیوں کی تصاویر دیکھ کر ان کا ریٹ انتہائی سستا لگاتے ہیں مطلب ایک گاڑی اگر دس لاکھ کی ہے تو وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ گاڑی آپ کو تین لاکھ روپے کی ملے گی اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس گاڑی کا جو دس لاکھ سے آپ کو تین لاکھ کی بتائیں گے اس میں آپ کو کہیں گے کہ جیسے ہمیں اس کا دس پرسنٹ یا بیس پرسنٹ جو کہ 25 سے 50 ہزار بن جاتا ہے وہ ایڈوانس کے طور پر مانگتے ہیں باقی پیسے ڈلیوری پر دینے کی بات کرتے ہیں اور بہت سارے لوگ سستی گاڑی گھر تک پہنچ کی لالچ میں آکر 50 ہزار تک ایڈواند بھیج دیتے ہیں اور پھر ہمیشہ کا انتظار بن کر بیٹھ جاتے ہیں پھر وہ گاڑی کبھی نہیں آتی اور وہ لوگ بینک سے کبھی پیسے نہیں منگواتے ہمیشہ موبائل کے ذریعے پیسے منگواتے ہیں
جو کہ گاڑی منگوانے کے لیے جو ایڈوانس پیسے دیتے ہیں ان کے پاس ان کا پورا کوئی اتا پتا نہیں ہوتا نہ کوئی رابطہ نمبر ہوتا ہے نہ ہی کو اصل شناختی کارڈ نمبر بہت سارے لوگوں کو شناختی کارڈ بھی دیتے ہیں اس کی کاپی بھی سینڈ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا شناختی کارڈ اور ہم آپ کو گاڑی بھیجیں گے اصل میں بہت شناختی کارڈ دیتے ہیں وہ ان کا نہیں کسی اور کا ہوتے ہیں جو کہ بعد میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تو آپ اپنے ذہن میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھئے کہ آپ کبھی بھی اگر کوئی بھی آپ کو کہتا ہے کہ یہ میں دس پرسنٹ بیس پر سونیا 30 پرسینٹ اڈوانس بھیجیں ہم آپ کو گاڑی گھر پہنچ جائیں گے تو سمجھ جائے وہ فراڈ کر رہے ہو فراڈی ہیں وہ اصل چور والے نہیں ہیں وہ نان کسٹم پیڈ بیچنے والے نہیں ہیں وہ فراڈی ہیں تو کبھی بھی ان کے جھانسے میں مت آئیے گا گاڑیسستی سمجھ کرکوئی ایڈوانس مت دیں
نان کسٹم پیڈ گاڑی خریدنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ چمن چلے جائیں پشین چلے جائیں وہاں پہ جاکر شوروم دیکھی ان کے سامنے گاڑی دیکھی گاڑی پسند کرے ان کا گھر بار دیکھیں ان کی شکل صورت میں کی ان سے بات کرے ان سے گاڑی خریدی اگر وہ ذمہ داری لیں گے تو وہ آپ کو گاڑی گھر تک پہنچا دیں گے کبھی بھی اصل ہو چاہے فراڈ ہو فون پر کبھی کوئی چیز مت کریدیں نہ ہی کوئی لین دین کریں اللہ ہم سب کو ہر طرح کے نقصان سے بچائے آمین

0 Comments