Chaman Border cars showrooms Who Is Fake Complete Explained 2021

Advertisement

Chaman Border cars showrooms Who Is Fake Complete Explained 2021

 

چمن بارڈر کے نام پر فراڈ سے ہوشیار رہیں

قارئین چمن بارڈر کے نام پر فراڈ اتنا زیادہ بن گیا ہے کہ اس پر ویڈیو بنانا لازمی ہو گئی تھی روزانہ لوگوں کی شکایت موصول ہو رہی تھیں اور ان کو نہیں پتہ چل رہا تھا کہ فیس بک پہ جتنے بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے پیجز ہیں ان میں سے کون سے اصل ہیں  اور کون سے فراڈہیں تو ان کی وجہ سے یہ ویڈیو بنانا لازمی ہوگئی تھی لیکن یہاں پہ ایک ویڈیو بنائی ہے وہاں پے یہ پوسٹ لگانے بھی لازمی ہو گئی ہے تاکہ جو لوگ ویڈیو نہیں دیکھ سکتے جو لوگ ویب سائٹ کو وزٹ کرتے ہیں تو ان کو اس چیز کے بارے میں علم ہو جانا چاہیے


قارئین کرام اس وقت فیس بک پہ جتنے بھی نان کسٹم پیڈ کے حوالے سے گروپ چل رہے ہیں ان میں سے 70 پرسنٹ جو ہیں وہ ہیں کہیں اس میں سے 25 پرسنٹ اصل ہیں اگر آپ یہ سوچیں گے کہ جو 75 پرسنٹ کہاں سے آتے ہیں تو یہاں پر میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ ویش بارڈر افغانستان پاکستان کے چمن شہر سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں تمام پاکستانی نیٹ ورک کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کے پاس بہت سارے پاکستانی شناختی کارڈ بھی ہیں ان لوگوں نے بہت سارے نان کسٹم پیڈ گاڑیون کا پیج بنا رکھے ہیں اور یہ بات بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ ہمسایہ ملک میں بیٹھ کر ہمارے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے


ہم یہاں پہ میں آپ کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جتنے پیج اس وقت فیس بک پر چل رہے ہیں جتنے گروپس اس وقت فیس بک پر چل رہے ہیں نان کسٹم پیڈ کے حوالے سے ان میں سے 25 پرسنٹ پاکستان میں ہیں جو کہ اورجنل ہیں جو 25 پرسنٹ اصل گروپ ہے یا جو 25 پرسنٹ حاصل ہے وہ آپ کو گاڑیاں تو دکھاتے ہیں اپنا کانٹیکٹ نمبر بھی دیتے ہیں لیکن وہ آپ سے کبھی بھی نہیں کریں گے فون پر وہ آپ سے ایک روپیہ بھی نہیں مانیں گے وہ آپ کو یہ بتائیں گے کہ ہمارے پاس یہ گاڑیاں موجود ہے اور ان پر اتنی قیمت کی ہیں آپ آئیں ہمارے شہر کو وزٹ کریں گاڑی کو سامنے دیکھیں پسند کاریں اور خریدیں باقی تمام معاملات سامنے طے کرتے ہیں


اب بات کرتے ہیں جو 75 فیصد ہے کہ کہیں جو جعلی گروپ سے وہ کیا کرتے ہیں سب سے پہلے تو بہت اچھی اچھی گاڑیوں کی تصاویر دیکھ کر ان کا ریٹ انتہائی سستا لگاتے ہیں مطلب ایک گاڑی اگر دس لاکھ کی ہے تو وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ گاڑی آپ کو تین لاکھ روپے کی ملے گی اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس گاڑی کا جو دس لاکھ سے آپ کو تین لاکھ کی بتائیں گے اس میں آپ کو کہیں گے کہ جیسے ہمیں اس کا دس پرسنٹ یا بیس پرسنٹ جو کہ 25 سے 50 ہزار بن جاتا ہے وہ ایڈوانس کے طور پر مانگتے ہیں باقی پیسے ڈلیوری پر دینے کی بات کرتے ہیں اور بہت سارے لوگ سستی گاڑی گھر تک پہنچ کی لالچ میں آکر 50 ہزار تک ایڈواند بھیج دیتے ہیں اور پھر ہمیشہ کا انتظار بن کر بیٹھ جاتے ہیں پھر وہ گاڑی کبھی نہیں آتی اور وہ لوگ بینک سے کبھی پیسے نہیں منگواتے ہمیشہ موبائل کے ذریعے پیسے منگواتے ہیں 


جو کہ گاڑی منگوانے کے لیے جو ایڈوانس پیسے دیتے ہیں ان کے پاس ان کا پورا کوئی اتا پتا نہیں ہوتا نہ کوئی رابطہ نمبر ہوتا ہے نہ ہی کو اصل شناختی کارڈ نمبر بہت سارے لوگوں کو شناختی کارڈ بھی دیتے ہیں اس کی کاپی بھی سینڈ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا شناختی کارڈ اور ہم آپ کو گاڑی بھیجیں گے اصل میں بہت شناختی کارڈ دیتے ہیں وہ ان کا نہیں کسی اور کا ہوتے ہیں جو کہ بعد میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تو آپ اپنے ذہن میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھئے کہ آپ کبھی بھی اگر کوئی بھی آپ کو کہتا ہے کہ یہ میں دس پرسنٹ بیس پر سونیا 30 پرسینٹ اڈوانس بھیجیں ہم آپ کو گاڑی گھر پہنچ جائیں گے تو سمجھ جائے وہ فراڈ کر رہے ہو فراڈی ہیں وہ اصل چور والے نہیں ہیں وہ نان کسٹم پیڈ بیچنے والے نہیں ہیں وہ فراڈی ہیں تو کبھی بھی ان کے جھانسے میں مت آئیے گا گاڑیسستی سمجھ کرکوئی ایڈوانس مت دیں


 نان کسٹم پیڈ گاڑی خریدنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ چمن چلے جائیں پشین چلے جائیں وہاں پہ جاکر شوروم دیکھی ان کے سامنے گاڑی دیکھی گاڑی پسند کرے ان کا گھر بار دیکھیں ان کی شکل صورت میں کی ان سے بات کرے ان سے گاڑی خریدی اگر وہ ذمہ داری لیں گے تو وہ آپ کو گاڑی گھر تک پہنچا دیں گے کبھی بھی اصل ہو چاہے فراڈ ہو فون پر کبھی کوئی چیز مت کریدیں نہ ہی کوئی لین دین کریں اللہ ہم سب کو ہر طرح کے نقصان سے بچائے آمین

Post a Comment

0 Comments