آج ہم بات کرتے ہیں پاکستان میں فلائنگ کلب کے حوالے سے فلائنگ کلب سے مراد ہے جہاں پے پائلٹ سکتے ہیں مطلب پائلٹوں کے لیے ایک اسکول یا ایسا اسکول جہاں پے ہوائی جہاز اڑانا سکھاتے ہیں پاکستان میں ٹوٹل دس فلائینگ کلب ہے جس میں سے چار لاہور میں ہیں دو اسلام آباد میں ہیں ایک ملتان میں ہے اور تین کراچی میں ہے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فلائنگ کلب میں سیکھنے کے لئے جو طلبہ ہے جو اسٹوڈنٹ ہیں ان کی قابلیت کتنی ہونی چاہیے اور پاکستان میں کون سے جہاز استعمال کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں
پاکستان میں فلائنگ سکھانے کے لیے فلائنگ کلب کے اندر جہاز استعمال کیے جاتے ہیں اور ہنستے ہیں جن میں دو سیٹوں پر بھی ہوتے ہیں فورسز پر بھی ہوتے ہیں اور اٹھ کر بھی ہوتے ہیں یہاں پر میں آپ کو بتاتا ہوں اور ٹوسیٹر ہے وہ ایک انجن والے ہیں جو دس ہزار رستے ہیں جو ایڈ کر ہے اس میں ڈبل انجن ہوتا ہے اور وہ 30 سے 35 ہزار فٹ کی بلندی تک اڑ کتے ہیں
پاکستان میں فلائنگ اسکولوں میں داخلہ لینے کے لئے عمر کم سے کم 18 سال سے زیادہ ہونی چاہیے اور تعلیمی قابلیت کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو تعلیمی قابلیت کم سے کم ہونے چاہیے اور میڈیکل کے لحاظ سے مکمل ہونا چاہیے میڈیکل کے حوالے سے الگ سے ایک ٹیسٹ لیا جاتا ہے جس میں مکمل فٹ ہوں تو اس کو داخلہ ملتا ہے تو یہ شرائط ضروری ہے اور اس کے علاوہ اگر بات کی جائے کہ خرچہ کتنا آتا ہے ایک پائلٹ بننے پر تو اس کے لیے کیونکہ فلائنگ اسکول بہت کم ہے تو اس میں خرچہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو سیکھنے آتے ہیں مطلب ان کو جتنے گھنٹے گھنٹے فلائی کرنا ہوتا ہے اس کا کے علاوہ جہاز سے رلیٹڈ اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں مطلب سب ملا کر ایک مکمل پائلٹ بننے تک 40 سے 45 لاکھ روپیہ خرچہ آجاتا ہے جو کہ ایک مڈل کلاس کے لیئے بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہی ہے
پاکستان میں جتنے بھی فلائنگ سکولز ہیں یہ سب پاکستان ایوی ایشن کے کنٹرول میں کام کرتے ہیں اور الحمدللہ پاکستان سے حاصل کرنے والا لائسنس پوری دنیا بھر میں قابل قبول ہے وہاں کے ملکی قانون کے مطابق کسی بھی ملک میں اگر اپلائی کرنا چاہتے ہیں تو چھوٹا سا کوئی ٹیسٹ لیتے ہیں اس کے بعد آپ کو اجازت دیتے ہیں مطلب دنیا بھر میں پاکستان کے پائلٹ کو اہمیت حاصل ہے
پاکستان میں پائلٹ لائسنس کی تین قسمیں ہیں
ایس پی ایل اسٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس اس لائسنس سے آپ صرف فلائنگ سکول میں ایز انسٹرکٹر اسٹوڈنٹس کو سکھا سکتے ہیں بطور استاد کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں
دوسرا ہے وہ ہے پی پی ایل مطلب پرائیویٹ پائلٹ لائسنس اسم آپ ایک پرائیویٹ پلین اڑا سکتے ہیں ایک پرائیویٹ جہاز اڑا سکتے ہیں
تیسرا ہے وہ ہی سی پی ایل مطلب کمرشل پائلٹ لائسنس کمرشل پائلٹ کا لائسنس میں آپ ایک کمرشل جہاز اڑا سکتے ہیں ان تینوں کے قسم کے لائسنس کو دنیا بھر میں مانا جاتا ہے قابل قبول ہیں
پاکستان کے فلائنگ اسکول کے اندر جو جہاز استعمال ہوتے ہیں جس طریقے سے میں نے بتایا تھا وہ تو سر فور سٹریٹ رائٹر ہوتے ہیں لیکن یہ باہر سے خرید کر لاتے ہیں 70 سے 80 لاکھ کی ان کی قیمت ہوتی ہے یہ 1980 سے لے کر انیس سو نوے کے ماڈل کے درمیان ہوتے ہیں اور بہت سارے لوگوں نے اپنے پرائیویٹ چھوٹے جہاز خرید کے رکھے ہوئے ہیں جو کہ کرائے میں بھی دیے جاتے ہیں جن میں ایک جہاز مبشر لقمان کا بھی ہے جو ایک اینکر تھا ابھی یوٹیوب چینل بھی چلا رہا ہے تو ایک ان کا بھی جہاز ہے
جس قیمت میں چھوٹا جہاز مل جاتا ہے اگر اسے عام استعمال کیا جاتا اس کا فیول خرچہ اور مینٹیننس کا خرچہ بہت زیادہ نہ ہوتا یا پھر اس کو ایئرپورٹ پر کھڑا کرنا اور اس کے علاوہ بہت سارے اخراجات ہوتے ہیں یہ نہ ہوتے تو قیمت کے لحاظ سے اگر خریدار تو بہت سارے لوگوں کے پاس ہوتا لیکن یہ اگر کوئی خرید لیتا ہے تو سوائے کسی اسپیشل یونٹ کے اس کو استعمال نہیں سکتا تو شاید اس وجہ سے پاکستان میں یہ عام نہیں ہے

0 Comments