Pakistan air flying clubs Flying schools 2021

Advertisement

Pakistan air flying clubs Flying schools 2021

 


آج ہم بات کرتے ہیں پاکستان میں فلائنگ کلب کے حوالے سے فلائنگ کلب سے مراد ہے جہاں پے پائلٹ سکتے ہیں مطلب پائلٹوں کے لیے ایک اسکول یا ایسا اسکول جہاں پے ہوائی جہاز اڑانا سکھاتے ہیں پاکستان میں ٹوٹل دس فلائینگ کلب ہے جس میں سے چار لاہور میں ہیں دو اسلام آباد میں ہیں ایک ملتان میں ہے اور تین کراچی میں ہے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فلائنگ کلب میں سیکھنے کے لئے جو طلبہ ہے جو اسٹوڈنٹ ہیں ان کی قابلیت کتنی ہونی چاہیے اور پاکستان میں کون سے جہاز استعمال کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں 


پاکستان میں فلائنگ سکھانے کے لیے فلائنگ کلب کے اندر جہاز استعمال کیے جاتے ہیں اور ہنستے ہیں جن میں دو سیٹوں پر بھی ہوتے ہیں فورسز پر بھی ہوتے ہیں اور اٹھ کر بھی ہوتے ہیں یہاں پر میں آپ کو بتاتا ہوں اور ٹوسیٹر ہے وہ ایک انجن والے ہیں جو دس ہزار رستے ہیں جو ایڈ کر ہے اس میں ڈبل انجن ہوتا ہے اور وہ 30 سے 35 ہزار فٹ کی بلندی تک اڑ کتے ہیں


پاکستان میں فلائنگ اسکولوں میں داخلہ لینے کے لئے عمر کم سے کم 18 سال سے زیادہ ہونی چاہیے اور تعلیمی قابلیت کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو تعلیمی قابلیت کم سے کم ہونے چاہیے اور میڈیکل کے لحاظ سے مکمل ہونا چاہیے میڈیکل کے حوالے سے الگ سے ایک ٹیسٹ لیا جاتا ہے جس میں مکمل فٹ ہوں تو اس کو داخلہ ملتا ہے تو یہ شرائط ضروری ہے اور اس کے علاوہ اگر بات کی جائے کہ خرچہ کتنا آتا ہے ایک پائلٹ بننے پر تو اس کے لیے کیونکہ فلائنگ اسکول بہت کم ہے تو اس میں خرچہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو سیکھنے آتے ہیں مطلب ان کو جتنے گھنٹے گھنٹے فلائی کرنا ہوتا ہے اس کا کے علاوہ جہاز سے رلیٹڈ اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں مطلب سب ملا کر ایک مکمل پائلٹ بننے تک 40 سے 45 لاکھ روپیہ خرچہ آجاتا ہے جو کہ ایک مڈل کلاس کے لیئے بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہی ہے


پاکستان میں جتنے بھی فلائنگ سکولز ہیں یہ سب پاکستان ایوی ایشن کے کنٹرول میں کام کرتے ہیں اور الحمدللہ پاکستان سے حاصل کرنے والا لائسنس پوری دنیا بھر میں قابل قبول ہے وہاں کے ملکی قانون کے مطابق کسی بھی ملک میں اگر اپلائی کرنا چاہتے ہیں تو چھوٹا سا کوئی ٹیسٹ لیتے ہیں اس کے بعد آپ کو اجازت دیتے ہیں مطلب دنیا بھر میں پاکستان کے پائلٹ کو اہمیت حاصل ہے 


  پاکستان میں پائلٹ لائسنس کی تین قسمیں ہیں 

ایس پی ایل اسٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس اس لائسنس سے آپ صرف فلائنگ سکول میں ایز انسٹرکٹر اسٹوڈنٹس کو سکھا سکتے ہیں بطور استاد کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں 

 دوسرا ہے وہ ہے پی پی ایل مطلب پرائیویٹ پائلٹ لائسنس اسم آپ ایک پرائیویٹ پلین اڑا سکتے ہیں ایک پرائیویٹ جہاز اڑا سکتے ہیں 

 تیسرا ہے وہ ہی سی پی ایل مطلب کمرشل پائلٹ لائسنس کمرشل پائلٹ کا لائسنس میں آپ ایک کمرشل جہاز اڑا سکتے ہیں ان تینوں کے قسم کے لائسنس  کو دنیا بھر میں مانا جاتا ہے قابل قبول ہیں


پاکستان کے فلائنگ اسکول کے اندر جو جہاز استعمال ہوتے ہیں جس طریقے سے میں نے بتایا تھا وہ تو سر فور سٹریٹ رائٹر ہوتے ہیں لیکن یہ باہر سے خرید کر لاتے ہیں 70 سے 80 لاکھ کی ان کی قیمت ہوتی ہے یہ 1980 سے لے کر انیس سو نوے کے ماڈل کے درمیان ہوتے ہیں اور بہت سارے لوگوں نے اپنے پرائیویٹ چھوٹے جہاز خرید کے رکھے ہوئے ہیں جو کہ کرائے میں بھی دیے جاتے ہیں جن میں ایک جہاز مبشر لقمان کا بھی ہے جو ایک اینکر تھا ابھی یوٹیوب چینل بھی چلا رہا ہے تو ایک ان کا بھی جہاز ہے 


جس قیمت میں چھوٹا جہاز مل جاتا ہے اگر اسے عام استعمال کیا جاتا اس کا فیول خرچہ اور مینٹیننس کا خرچہ بہت زیادہ نہ ہوتا یا پھر اس کو ایئرپورٹ پر کھڑا کرنا اور اس کے علاوہ بہت سارے اخراجات ہوتے ہیں یہ نہ ہوتے تو قیمت کے لحاظ سے اگر خریدار تو بہت سارے لوگوں کے پاس ہوتا لیکن یہ اگر کوئی خرید لیتا ہے تو سوائے کسی اسپیشل یونٹ کے اس کو استعمال نہیں سکتا تو شاید اس وجہ سے پاکستان میں یہ عام نہیں ہے

Post a Comment

0 Comments