السلام علیکم قارئین آپ نےپیر غیب کے بارے میں تو سنا ہوگا پیر غیب کچھی بلوچستان کے علاقے میں ہے اور اگر آپ بولان کا سفر کرتے ہیں مطلب سکھر سے کوئٹہ کی طرف جاتے ہیں تو جیسے بھی بولنا شروع ہوتا ہے آگے جا کر ایک بی بی نانی کے پلاتی ہے اس نانی کے پل سے 5 کلومیٹر آگے دائیں ہاتھ پر ایک راستہ نکلتا ہے جہاں کالے کلر کے بورڈ لگا ہوا ہے اس پر پیر لکھا ہوا ہے
اگر آپ کوئٹہ سے آتے ہیں سبھی کی طرف تو آپ کو کوئٹہ سے 70 کلومیٹر دور ایک بول نظر آئے گا اگر آپ مجھ سے آگے آتے ہیں تو مجھ سے 16 کلومیٹر آگے دائیں ہاتھ پر یہ راستہ نکلتا ہے اور تیربہدف جو میں نہ آئے ہیں ان کا اس سے دس کلومیٹر آگے ہیں
اگر آپ نے پیر غیب کی ویڈیو دیکھی ہے آپ پہلے کبھی گئے نہیں اور آپ پیر جانا چاہتے ہیں اور آپ نے یہ پروگرام سیٹ کر رہا ہے کہ اگر آپ کوئٹہ جاتے ہیں یا پھر کوئٹہ سے سبی کی طرف جاتے ہیں تو آپ راستے میں پیرغیب کی سیر ضرور کریں گے لیکن آپ کو پیر غیب کے راستے کی اونچ نیچ کا نہیں پتہ نہیں اور اپ موسم کے بارے میں بھی نہیں پتہ تو آج میں آپ کو مکمل تفصیل بتاتا ہوں
اگر آپ پہلی بار جانا چاہتے ہیں تو آپ سفر کرنے سے پہلے یہ بات اپنے ذہن میں ضرور رکھ لیں کیونکہ میں نہ آئے سے پیر بد سو کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اس کے درمیان درہ بولان دو جگہ پر گزرگاہ آتی ہےاور اس گزرگاہ میں کوئی پھل وغیرہ نہیں ہے اور پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے اور کافی دن بھی چلتا ہے مطلب دو دو دن بھی چلتا ہے اگر دو دن آپ وہاں پہ پھنس جاتے ہیں تو پھر وہاں پہ کوئی کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں ہے اگر آپ کے ساتھ کھانے پینے کی کوئی اشیا بھی نہیں ہے تو آپ کے لیے بہت دشواری ہو سکتی ہے تو آپ جانے سے پہلے موسم کو مدنظر رکھے گا اور اپنے ساتھ کم از کم دو تین دن کا راشن کے ساتھ ضرور رکھنا ہوگا اور اس کے علاوہ پیرغیب کتنی بڑی جگہ ہے وہ بھی میں آپ کو بتاتا ہوں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر پیر غیب پر ہے کیا تو پھر غیب دو پہاڑوں کے درمیان ایک نکلتے ہوئے پانی کے نالے کے نیچے ایک قبر بنی ہوئی میں دیکھی جس کو پیرغائب کہتے ہیں اور اس پانی سے وہاں پہ کچھ کھجوروں کے درخت اور پھل پھول مطلب ایک جیسے لگا لے جھرمٹ ہوتا ہے چھوٹا سا ایک جھرمٹ ہے اور اس پانی پر ایک سوئمنگ پول بنائے ہیں وہ ایک پل بنا ہی ایک جہاں سے نالہ نکلتا ہے پانی نیچے گرتا ہے تو اسے واٹر فال کہتے ہیں ایک واٹر فال ہے چھوٹی سی جگہ ہے جس پر موسم کی بات کی جائے تو موسم بھی وہاں صدیق کی طرح گرم ہیں گرمی میں جانا تو بالکل بھی سیو نہیں ہے کیونکہ وہاں بہی بجلی وغیرہ کا ایسا کوئی بندوبست نہیں ہے اور نہ ہی کوئی موبائل نیٹ ورک کسی بھی موبائل کا نیٹ ورک وہاں پر نہیں ملتا آپ کو اسی سے موبائل فون پر ہیلپ بھی نہیں حاصل کر سکتے رابطہ بھی نہیں کرتے کیونکہ جب ایک نیٹ ورک ہی نہیں ہے تو مطلب آپ توکل تو اللہ پر جا سکتے ہیں
اگر آپ کے دل میں یہ سوال آ رہا ہے تو بھائی پھر وہاں پر جانا کیسے چاہیے کس موسم میں چاہیے تو اس کے لئے میرا مشورہ آپ تمام قارئین کے لیے یہ ہوگا کہ آپ معتدل موسم میں جائیں معتدل موسم سے مطلب ہے یا تو جب سردیوں سے گرمیاں آ رہی ہوتی یا پھر گرمیوں کے بعد جب سردیاں آ رہی ہوتی ہے مطلب جب آپ کو بجلی سی پنکھے کی ضرورت محسوس نہ ہو تب تک جاسکتے ہیں
ناظرین نے چران جب آپ وہاں جاتے ہیں تو آپ کی گاڑی بہت اچھی کنڈیشن میں ہونی چاہیے اس کے ٹائر وغیرہ صحیح ہونے چاہیے انجن کی کنڈیشن اچھی ہونی چاہیے گرمائش وغیرہ وغیرہ نہ ہوتی ہوں اور آپ کے ساتھ کھانے پینے کا سامان آپ کے ساتھ ہونا چاہیئے اور چونکہ کہ پیر غیب ایک الگ غیر آباد علاقے میں ہے تو یہ جگہ فیملی کے لیئے بھی موزو نہیں ہے زیادہ تر وہاں مرد حضرات ہی آتے ہیں اور نہاتے ہیں انجوائے کرتے ہیں موج مستی کرتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے رات رہنا پڑ جائے تو رہائش کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں اس لیئے صرف کچھ گھنٹے تک ہی تفریح ممکن ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ان تمام باتوں کے باوجود آرٹیکل لکھنے والے سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں

0 Comments