السلام علیکم آج کی بحث سے کی کمپنی کے حوالے سے ہے جیسے پہلے بحث ہم نے کی تھی ایم جی گاڑی اور کوئٹہ کے حوالے سے تو آج ہم بات کرتے ہیں سوزوکی کے حوالے سے کہ پاکستان میں سوزوکی کمپنی کا
مستقبل کیا ہوگا
دوستو اگر ہم شو کی کمپنی کی پرفارمنس کی طرف آرہے ہیں تو دیکھا جائے تو انیس سو نوے سے لے کر 2020 تک مطلب پورے تیس سال سوزوکی کمپنی نے من مانیاں کی ہیں مطلب یہ ہے کہ ٹوٹا کمپنی اس کے مقابل نہیں تھی اس کا ایک الگ برانڈ تھا اور کوئی مدمقابل نہ ہونے کی وجہ سے سوزکی کمپنی نے خوب فائدہ اٹھایا
مطلب تیس سال سے ایک ہی ماڈل مہران سے لوگوں کو لوٹتے رہے یہاں لوٹنے سے مراد ایک غیرمعیاری مصنوعقات کو بیچنا ہے یہاں غیر معیاری سے مراد مہران کار کے ڈیزائن سے لے کر اس کے فیچرز کی ہے جس طرح سے مہران کار کو سادہ بنایا گیا اس میں کوئی خاص فیچر نہ ہونے کے باوجود لوگوں نے اس کار کو خریدا صرف اس وجہ سے کہ اس کے مدمقابل کوئی اچھے فیچرز والی کمپنی پاکستان میں موجود ہی نہ تھی
سوزکی کمپنی نے بھی تیس سال تک نہ ہی ڈیزائن بدلا نہ کسی فیچر میں بدلاو کیا نہ ہی بنانے کے سامان کو بہتر بنایا اس کے باوضود خریدارون کو بہت سارے نقص پتہ ہونے کے باوجود خریدا جتنے پیوں میں مہران خریدتے رہے اتنی رقم میں دوسرے ممالک میں ایک لگژری گاڑی خریدی جا سکتی تھی پھر بھی مجبوری میں خریدتے رہے
جب سوزکی کمپنی کو پتہ چلا کہ اب ایم جی کمپنی سامنے آکر کھڑی ہوئی ہے تو پھر اپنی پرانی مہران کو بدل کر ایک نیا ڈیزائن سامنے لے کر آئے الٹو 660سی سی جو کہ کامیاب ہوتی نہیں دکھائی دے رہی اس کی وجہ یہ ہے اس کار کو میرے خیال میں صرف ایک ہی وجہ سے لوگ خرید رہے ہیں کہ نئی الٹو میں ایڈواند ٹیکنالوجی کی وجہ سے فیول کا خرچہ کافی کم ہے جہاں ایک اچھا فیوچر دیا وہاں پر پاکستان میں بغیر اسپیئر تائر کے گاڑی بنانا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں اور باڈی مٹیریل بھی کمزور ہے
اب یہاں اگر ہم ایم جی کار کو سامنے لاتے ہیں تو اگر ایم جی 3 اس سوزکی الٹو کی نسبت 2 لاکھ مہنگی بھی ہو تو لوگ اس کو زیادہ پسند کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں روڈ اوررستون کی حالت دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت اسپیئر ٹائر کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور پھر ایم جی کار میں بیٹھنے کی کیپشٹی بھی بہتر ہے اور فیچرز بھی ایک اچھی نگاڑی کے برابر ہیں
دوستو ایم جی 3 کار میں جہاں وسیع بیٹھنے کی جگہ ہے وہاں پاور اسٹرینگ -ائیربیک ۔ فیول ایوریج سب سوزکی کمپنی سی کئی گنا بہتر ہے اور بھی بہت سارے فیچرز ہیں جو ایک اچھی گاڑی میں ہونے چاہیئں اب یہاں پر ظاہری صورت حال تو بہتر ہے لیکن نئی کمپنی ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کے اسپیئر پارٹس اور سروس کو لے کر کچھ سوال بھی ہوں گے جس کی وجہ سے ایم جی کو اپنی جگہ بنانے میں کچھ ٹائم تو لگے گا
اگر ایم جی کمپنی اپنے معار اور کوالٹی کو بر قرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور کریداروں کا اعتماد حاصل کر لیتی ہے اور سوزکی کمپنی اپنے پرانے طریقے پر چلتی رہی تو پھر سوزکی اپنا اعتماد کھو بیٹھے جو پہلے ہی کافی حد تک کھو چکی ہے جس سے آنے والے وقت میں سوزکی کو اپنی مصنوعات کو آگے بڑھانے میں بہت بڑے نقصان کا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے
اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں کار کے کریداروں کو ہی زیادہ فائدہ ہو سکے گا کیونکہ ایم جی کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے ٹویوٹا چاہے سوزکی دونوں کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا پڑے گی اور ساتھ میں مصنوعات کی کوالٹی مزید بہتر بنانی ہوگی اس صورت میں خریداروں کو پہلے سے اچھی کوالٹی اور اضافی فیچرز کے ساتھ کار کریدنے کا موقع ملے گا بلکہ پہلے کے مد مقابل قیمتیں بھی کم ملیں گی اس طرح خریداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ خریدار کے لیئے تو بہتر مستقبل ہوگا لیکن کمپنی کو کو اچھی کوالٹی کی کار پہلے سے کم پیسوں میں بیچ کر کم منافع کمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

0 Comments