کوئی زمانہ تھا جب پاکستان اور ایران کا بارڈر کھلا ہوتا تھا بہت ہی زبردست قسم کی کراکری بھی آتی تھی اور اس کے ساتھ کمبل آتے تھے جیکٹ بھی آتی تھی مطلب کے بہت سارا سامان آتا تھا اور انہیں دو بارڈر نے کوئٹہ کو بہت زیادہ مشہور بھی کیا جس میں چمن باڈر میں شامل تھاجب ایران کا بارڈر کھلا ہوتا تھا اس وقت ایرانی کمبل بہت ہی عمدہ کوالٹی کہ بہت ہی مناسب ریٹ میں مل جاتا تھا اور الیکٹرونکس کا بھی بہت سارا سامان آتا تھا اور اگر کراکری کی بات کرے تو ایرانی کریں بہت ہی اچھی کوالٹی کی اور سب سے مناسب ریٹ میں کوئٹہ میں ملتی تھی اور زیادہ فائدہ ہوا کوئٹہ کو کوئٹہ باڈر کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور ہوگئی اور باہر سے آنے والی کوئی بھی باہر کی امپورٹ چیز لینی ہو تو لوگ اور کوئٹہ کا رخ کرتے تھے اور آج تک ایک نام بنا ہوا ہے
لیکن اس نام کا فائدہ کوئٹہ والوں کو کیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کو کیا نقصان ہوتا ہے یہ بھی میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جس طریقے سے آہستہ آہستہ وقت گزر گئے تاں گیاوقت کے ساتھ ساتھ بارڈر پر سختیاں بڑھتی چلی گئی اور اہستہ آہستہ سامان کا آنا کم ہوتا چلا گیا اور یہ ہوتے ہوتے سامان کا آنا تقریبا کچھ عرصے کے لیے بند ہو گیا تو اس کا یہ فرق ہوا
جب کوئٹہ والوں نے دیکھا کہ بھائی کا سامان آنا بند ہو گیا ہے ہمارے کاروبار کا کیا ہوگا تب انہوں نے وہ کیا چائنا کا اور پھر نام تو ویسے بھی چلتا تھا باہر کا تو بہت سارے لوگوں کو ان چیزوں کی پہچان نہیں ہوتی تھی تو ان لوگوں نے کیا کیا کہ جو آئرن چائنا کا سامان ہوتا تھا یا پاکستان میں بنا ہوا کچھ سامان ملا کر اس کو ایرانی اور جاپانی بتا بتا کر بیچنے لگے اور قیمت بھی وہی مل رہی تگی جو بارڈر سے آنے والے سامان کی ہوتی تھی
کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلنے لگ گیا کہ یہ ملاوٹ کا کام کر رہے ہیں ملاوٹ سے مراد ہے کہ جو مالی دے رہے ہیں باہر کا بتا کر ایرانی بتا کر یا جاپان کا پتہ کر وہ مال تو یا چینا کا نکلنا یا پھر لاہوری نکل رہا ہے اس کے اندر جس قیمت میوہ لیتے ہیں وہ کوالٹی نہیں ہے مطلب ہے جو کہ رہے ہیں ملاوٹ کر رہے ہیں تو لوگ ہوشیار ہونے لگے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ کوئٹہ ہر شخص نہیں آتا اور نا ہی ہر شخص کو یہ پتہ ہے کوئٹہ آنے ولا سامان ایرانی ہے جاپانی یا پھر پاکستانی لوگ آج بھی یقین کرلیتے ہیں
اور آج اگر دیکھا جائے تو بٹر کا نام ہی رہ گیا ہے بہت سارا سامان اب صرف چائنہ کا بکتا ہے یاپھر لاہوری بکتا ہے لیکن لوگوں کو پتہ نہ ہونے کی وجہ سے کراکری کے حوالے سے یہ ہے کہ اب صرف چائنا اور لاہور کی کراکری ہی چلتی ہے کراکری ہو شیشے کے برتن ہوں تھرماس ہو یا استری زیادہ تر سارا سامان چائنا اور پاکستان کا ہی ہوتا ہے اس کو ایرانی جاپانی اور دوسرے ملکوں کا بتا کر بچتے ہیں جس کا ثبوت میں وڈیو میں دکھا چکا ہوں
ہاں ایک بات ہو سکتی ہے کہ چائنا کی اچھی کوالٹی مل سکتی ہے جو کہ کوئٹہ آنے کی ضرورت نہیں ہے میرا خیال ہے اگر چائنا کا سامان خریدا جائے تو چائنا کا سامان پورے پاکستان میں اویلیبل ہے کسی بھی جگہ سے کوئی بھی کراکری ہو یا اور کافی الیکٹرونکس کی چیزیں ہیں تو وہ آپ کہیں سے بھی خرید سکتے ہیں تو اس کے لیے کوئٹہ عنایا کوئٹہ سے لے جانے کا رسک لینا ضروری نہیں ہے
کیونکہ دیکھا گیا ہے زیادہ تر جہاں سایہ وارنٹی کیا گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ دو سال کی گرنٹی ہے یا تین سال کی گرنٹی ہے یا پانچ سال کی گرنٹی ہے اتنی تو چیز نہیں ہوتی جس کا کلیم کرنے کے لئے دوبارہ انسان کوئٹہ چل کے آئےاور اتنا خرچہ کرکے کون آئے گا مجبور ہو کر نقصان برداشت کر لیتے ہیں میں اتنا نزدیک ہونے کے باوجود بھی نہیں آ سکتا تو باقی لوگ وہاں سے کیسے آ سکتے ہیں تو اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو کوئٹہ اب کافی بدنام ہو چکا ہے اور ایران کا بارڈر بند ہے اور چائنا کا مال زیادہ ہے اور چمن باڈر سے بھی الیکٹرونکس نا آنےکے برابر ہے ابھی یہ صرف نام کا فائدہ ہی لے رہے ہیں
یہ معلومات اپنے ڈاتی تجربے سے لکھی گئی ہے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اور یہ تحریر مکمل کوئٹہ کے لیئے نہیں کچھ لوگ آج بھی ایمانداری سے رزق کما رہے ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں

0 Comments