Quetta Household crockery and utensils Market 2021

Advertisement

Quetta Household crockery and utensils Market 2021

 

کوئی زمانہ تھا جب پاکستان اور ایران کا بارڈر کھلا ہوتا تھا بہت ہی زبردست قسم کی کراکری بھی آتی تھی اور اس کے ساتھ کمبل  آتے تھے جیکٹ بھی آتی تھی مطلب کے بہت سارا سامان آتا تھا اور انہیں دو بارڈر نے کوئٹہ کو بہت زیادہ مشہور بھی کیا جس میں چمن باڈر میں شامل تھاجب ایران کا بارڈر کھلا ہوتا تھا اس وقت ایرانی کمبل بہت ہی عمدہ کوالٹی کہ بہت ہی مناسب ریٹ میں مل جاتا تھا اور الیکٹرونکس کا بھی بہت سارا سامان آتا تھا اور اگر کراکری کی بات کرے تو ایرانی کریں بہت ہی اچھی کوالٹی کی اور سب سے مناسب ریٹ میں کوئٹہ میں ملتی تھی اور زیادہ فائدہ ہوا کوئٹہ کو کوئٹہ باڈر کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور ہوگئی اور باہر سے آنے والی کوئی بھی باہر کی امپورٹ چیز لینی ہو تو لوگ اور کوئٹہ کا رخ کرتے تھے اور آج تک ایک نام بنا ہوا ہے


 لیکن اس نام کا فائدہ کوئٹہ والوں کو کیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کو کیا نقصان ہوتا ہے یہ بھی میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جس طریقے سے آہستہ آہستہ وقت گزر گئے تاں گیاوقت کے ساتھ ساتھ بارڈر پر سختیاں بڑھتی چلی گئی اور اہستہ آہستہ سامان کا آنا کم ہوتا چلا گیا اور یہ ہوتے ہوتے سامان کا آنا تقریبا کچھ عرصے کے لیے بند ہو گیا تو اس کا یہ فرق ہوا 


 جب کوئٹہ والوں نے دیکھا کہ بھائی کا سامان آنا بند ہو گیا ہے ہمارے کاروبار کا کیا ہوگا تب انہوں نے وہ کیا چائنا کا اور پھر نام تو ویسے بھی چلتا تھا باہر کا تو بہت سارے لوگوں کو ان چیزوں کی پہچان نہیں ہوتی تھی تو ان لوگوں نے کیا کیا کہ جو آئرن چائنا کا سامان ہوتا تھا یا پاکستان میں بنا ہوا کچھ سامان ملا کر اس کو ایرانی اور جاپانی بتا بتا کر بیچنے لگے اور قیمت بھی وہی مل رہی تگی جو بارڈر سے آنے والے سامان کی ہوتی تھی


کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلنے لگ گیا کہ یہ ملاوٹ کا کام کر رہے ہیں ملاوٹ سے مراد ہے کہ جو مالی دے رہے ہیں باہر کا بتا کر ایرانی بتا کر یا جاپان کا پتہ کر وہ مال تو یا چینا کا نکلنا یا پھر لاہوری نکل رہا ہے اس کے اندر جس قیمت میوہ لیتے ہیں وہ کوالٹی نہیں ہے مطلب ہے جو کہ رہے ہیں ملاوٹ کر رہے ہیں تو لوگ ہوشیار ہونے لگے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ کوئٹہ ہر شخص نہیں آتا اور نا ہی ہر شخص کو یہ پتہ ہے کوئٹہ آنے ولا سامان ایرانی ہے جاپانی یا پھر پاکستانی لوگ آج بھی یقین کرلیتے ہیں 


اور آج اگر دیکھا جائے تو بٹر کا نام ہی رہ گیا ہے بہت سارا سامان اب صرف چائنہ کا بکتا ہے یاپھر لاہوری بکتا ہے لیکن لوگوں کو پتہ نہ ہونے کی وجہ سے کراکری کے حوالے سے یہ ہے کہ اب صرف چائنا اور لاہور کی کراکری ہی چلتی ہے کراکری ہو شیشے کے برتن ہوں تھرماس ہو یا استری زیادہ تر سارا سامان چائنا اور پاکستان کا ہی ہوتا ہے اس کو ایرانی جاپانی اور دوسرے ملکوں کا بتا کر بچتے ہیں جس کا ثبوت میں وڈیو میں دکھا چکا ہوں

 

ہاں ایک بات ہو سکتی ہے کہ چائنا کی اچھی کوالٹی مل سکتی ہے جو کہ کوئٹہ آنے کی ضرورت نہیں ہے میرا خیال ہے اگر چائنا کا سامان خریدا جائے تو چائنا کا سامان پورے پاکستان میں اویلیبل ہے کسی بھی جگہ سے کوئی بھی کراکری ہو یا اور کافی الیکٹرونکس کی چیزیں ہیں تو وہ آپ کہیں سے بھی خرید سکتے ہیں تو اس کے لیے کوئٹہ عنایا کوئٹہ سے لے جانے کا رسک لینا ضروری نہیں ہے 


کیونکہ دیکھا گیا ہے زیادہ تر جہاں سایہ وارنٹی کیا گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ دو سال کی گرنٹی ہے یا تین سال کی گرنٹی ہے یا پانچ سال کی گرنٹی ہے اتنی تو چیز نہیں ہوتی جس کا کلیم کرنے کے لئے دوبارہ انسان کوئٹہ چل کے آئےاور اتنا خرچہ کرکے کون آئے گا مجبور ہو کر نقصان برداشت کر لیتے ہیں میں اتنا نزدیک ہونے کے باوجود بھی نہیں آ سکتا تو باقی لوگ وہاں سے کیسے آ سکتے ہیں تو اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو کوئٹہ اب کافی بدنام ہو چکا ہے اور ایران کا بارڈر بند ہے اور چائنا کا مال زیادہ  ہے اور چمن باڈر سے بھی الیکٹرونکس نا آنےکے برابر ہے ابھی یہ صرف نام کا فائدہ ہی لے رہے ہیں 

یہ معلومات اپنے ڈاتی تجربے سے لکھی گئی ہے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اور یہ تحریر مکمل کوئٹہ کے لیئے نہیں  کچھ لوگ آج بھی ایمانداری سے رزق کما رہے ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں 

Post a Comment

0 Comments