آج کل کے دور میں ڈپریشن ایک عام بن چکا ہے جو جسم اور دماغ دونوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے آج کل کے دور میں لوگ ڈپریشن کا شکار بہت زیادہ ہو رہے ہیں اس کی بہت سی وجوہات ہیں کہ لوگ معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل مختلف گھریلو معاشی پریشانیاں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے ہر شخص پریشان دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے دن بدن ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے یہ مرض اس قدر عام ہے کہ شاید ہی کوئی شخص اس سے محفوظ ہو ہم ہر روز کسی نہ کسی ایسی صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے عام طور پر بھی ہم اداسی مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں مسلسل مایوس اور اداس رہنے سے انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے
اس مرض سے بری طرح متاثر ہونے والوں کو علم نہیں ہوپاتا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہے وہ اسے کام کی زیادتی یا حالات کا نتیجہ سمجھتے ہیں اگر اس مرض کی علامات کو پہچان کر فوری طور پر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ نہ کابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اس کا نتیجہ خودکشی بھی ہو سکتا ہے کچھ لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں خصوصا مرد حضرات محبت میں ناکامی گھریلو لڑائی جھگڑے اور بے روزگاری رفتہ رفتہ یہ مسائل انہیں ڈیپریشن کی طرف لے جاتی ہیں بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پہ حاوی کر لیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو بار بار سوچتے ہیں مثلا کسی قریبی عزیز کے انتقال کالا کیا بیماری کی صورت میں کچھ عرصہ اداس رہنا کتنی ہے مگر بعض افراد اس اداسی سے باہر آ نہیں پاتے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں جب ہم بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن کا شکار ہو اور بالکل تنہا تو ایسی صورت میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ اور سمارٹ فون استعمال کرنے والے ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں
مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا شکار زیادہ ہوتی ہیں ڈپریشن دو طرح کا ہوتا ہے سادہ ڈپریشن جو وقتی ہوتا ہے اور کلینیکل ڈپریشن جو غیر مدتی ہوتا ہے کہ نکل ڈپریشن شدید اور خاصہ اذیت ناک ہوتا ہے یہ بات یاد رکھیں ڈپریشن کا اہلی اور بے کاری سے پیدا ہوتا ہے جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا یا وہ کچھ کرنا نہیں چاہتے ایسے لوگ جلدی سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں
ڈپریشن کی کچھ غیر معمولی علامات ہیں یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب پریشن اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے اور اب یہ وہ وقت ہے کہ مریض کا فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے اگر آپ اپنے یا اپنے آس پاس موجود افراد میں سے کسی کے اندر ان میں سے کوئی بھی علامہ دیکھیں تو اس کی طرف فوری توجہ دینا ضروری ہے پشیمانی یا شرمندگی کا احساس ہونا ڈپریشن کا شکار افراد شدید پشیمانی اور شرمندگی کا شکار ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں یہ ہر برے کام کے لیے اپنے آپ کو قصوروار قرار دیتے ہیں یہ عمل انفرادی شخصیت کے لئے نہایت تباہ کن ہے اس وجہ سے کوئی بھی فرد اپنی صلاحیتوں سے بالکل بے پرواہ ہو کر کافی عرصے تک احساس کمتری اور بلاوجہ کی پشیمانی کا شکار رہتا ہے اور اس آیت سے نکلنے کے لیے اسے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ہے
منفی سوچ ڈپریشن کے مریض ہر بات میں منفی پہلو دیکھنے اور اس کے بارے میں منفی سوچنے لگتی ہیں ایسے افراد کی خوشی کے مواقع پر بھی کوئی نہ کوئی منفی پہلو نکال کر سب کو خوش کر دیتے ہیں تھکاوٹ ڈپریشن کے شکنجے میں جکڑے افراد ہر وقت تھکن اور غنودگی محسوس کرتے ہیں ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر وقت سوچوں میں غرق رہتے ہیں منفی سوچ رکھتے ہیں اور منفی نتائج اخذ کرتے ہیں یہ عمل انہیں دماغی اور جسمانی طور پر دھکا دیتا ہے اور وہ ہر وقت غنودگی محسوس کرتے ہیں عدم دلچسپی اس مرض کا شکار افراد ہر چیز سے غیر دلچسپی بحث کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل تک انہیں نہایت پرجوش کر دینے والی چیزیں بھی ان کے لئے کشش کھو دیتی ہیں اور انہیں کسی چیز میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی
قوت فیصلہ میں کمی اس کے افراد اپنے فیصلہ کرنے کی قوت کھو دیتے ہیں یا اس میں بہت حد تک کمی واقع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس صورتحال میں وہ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اس لئے کوشش کرنی چاہیے کہ ڈپریشن میں کوئی فیصلہ نہیں کرے تو بہتر ہے ہر روز رات تک کا ایک پلان تیار کریں نہانے صبح کی سیر ناشتہ کرنے جیسے معمولات بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے جو کام مشکل اور پیچیدہ انہیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں اور اس طرح وہ کام آسان ہو جائیں گے سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا اس سے نہ صرف آپ دوسروں کے کام آئیں گے بلکہ آپ کے جسمانی اور ذہنی صحت اچھی ہوگی کیونکہ لوگوں سے دوری اور بھی ڈپریشن کا ایک سبب ہے
روزانہ تھوڑی بہت ایکسرسائز کرنے سے بھی ڈپریشن کے لیول میں کمی واقع ہوتی ہے انسان کا نیچر کے ساتھ کنکشن بھی ڈپریشن میں کمی کی وجہ بنتا ہے اور سب سے اہم عبادت کرنے سے بھی ڈپریشن میں کمی ہوتی ہے انسان کیانسان کی زندگی میں ایک دو لوگ ایسے ہو نے چاہیے جن سے وہ اپنے پرابلم شیئر کر سکے اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بھی ڈپریشن میں کمی واقع ہوتی ہے
ڈپریشن کا علاج سائیکوتھراپی باتوں کے ذریعے بھی کیا جاتاہے اور ادویات سے بھی شہد ملے دودھ کے ساتھ سیب کھانا ہر طرح کے ڈپریشن میں مفید ہے کہ جو بھی ڈپریشن کو ختم کرنے میں حیرت انگیز خوبیوں کا حامل ہے سردیوں میں اس کا استعمال جاری رکھنا چاہیے روزانہ صبح اٹھ کر پروگرام بنائیں اور اس کے مطابق کام کریں جو کام زیادہ اہم اور ضروری ہے اس سے پہلے کریں اپنے خیالات کو برا نہ کرے نفرت غصہ سے پشیمانی اور حسد کے جذبات کو دل سے نکال دیں محبت خوشی اور پیار کے جذبات دل میں بسا لیں اس سے آپ کا دل راضی ہوگا اور آپ خوش و خرم رہیں گے سادہ پن دکھائی اور خود کو مختلف مشاغل یا فلاحی کاموں میں مصروف کریں پرندوں کی مدد کریں
یاد رکھیے کہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار شخص اکیلے اس مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا اور اس کے لیے اس سے ماہر نفسیات کے علاقے کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کا تعاون بھی لازمی درکار ہے اللہ پر توکل رکھیں کیونکہ جو لوگ اللہ پر توکل رکھتے ہیں وہ ڈپریشن کا شکار کبھی نہیں ہوتے

0 Comments