آپ کراچی جاتے ہوئے حیدرآباد سے جب گزرتے ہیں تو نوری آباد کے مقام پر آپ کو الٹے ہاتھ کے بہت بڑے طبعیت اور نظر آتے ہوں گے اگر آپ کو رات کے ٹائم گزرے ہوں گے تو وہ آپ کو بہت ساری لال کی لائٹ سر آپ کو جلتی ہوئی نظر آتی ہیں کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ لائیو کتنی اونچائی پر لگی ہوتی ہیں اور انٹرنیٹ کا کیا کام ہوتا ہے انٹر بینک کی لمبائی کتنی ہے اور ان کے اندر جو بلٹی ہوئے ان کی کتنی لمبائی ہے اور اتنی سپیڈ سے چلتے ہیں آج مکمل تفصیل سے پڑھیں
انٹر بائیس کے اندر جو تار لگے ہوتے ان ٹاور کی لمبائی دو سو فٹ کے قریب ہوتی ہے اور کسی کی دو سوپر سے بھی زیادہ ہوتی ہے اگر چوڑائی کی بات کریں تو ان کی چوڑائی کے برابر ہو سکتی ہے جن کے اندر جرنیٹرز وغیرہ اوپر لگے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ جو برسوں سے ان کی لمبائی ایک سو سولہ سے ایک سو بیس فٹ تک ہوتی ہے
انٹر باز کے بلیڈ جو آپ کو دور سے بہت سے لوگ ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان کے گھومنے کی رفتار 10 سے 20 آر ٹی ایم تک ہوتی ہے اس سے زیادہ نہیں ہوتی اور اس کو اس طریقے سے کیا گیا ہے میں نے آج کے اندر جتنی بھی زیادہ تیز ہوا چلے یا بالکل کمھلا چلے ان کی اسپیچ دس سے بیس عربی ایم چلتی ہی رہتی ہے اگر ان کی اسپیڈ 50 آر پی ایم تک پہنچ جائے تو یہ بادلوں کو بھی نیچے کھینچ سکتے ہیں
انٹرویوز کے بلیڈ اور جنریٹر کے درمیان ایک غیر لگا ہوتا ہے جو کہ 10 سے 20 آر پی ایم کی اسپیڈ کو کرکے ہزار سے پندرہ سو آر پی او تک لے جاتا ہے جس سے جانی ٹربل یکو جنید کرتے ہیں اگر ہم بات کریں جانی کرنے کی تو اس ایک جنریٹر کے اندر 1۔ میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے مطلب 5 ٹاورز 11000 وولٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ ٹربائن 3 سال تک متواتر چلتے رہتے ہیں
انٹر بینک کے اندر جو تکنیک استعمال کی گئی ہے اس سے کسی بھی وقت یہ ہوا چلے تو انتباہ اس کا رخ خود اس ہوا کی سمت بدلتا رہتا ہے وہ اس کے اندر ایک ڈائگنوسٹک سسٹم ہے جس سے وہ ہے اور موسم کے رویے کو محسوس کرتے ہوئے اس طرف اپنا رخ موڑ لیتی ہے اور یہ ٹرابائن ہزارون کی تعداد میں لگے ہوئے ہیں اگر آپ نوری آباد سے کراچی یا پھر نوری آباد سے کینجر کی طرف جائیں تو راستے میں ہزاروں کی تعداد میں یہ ٹربائن نظر آئیں گے اور یہ فری نجلی بنانے کا بہترین ذریعہ ہے

0 Comments