ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے ہر چیز اپنی اہمیت رکھتی ہے جس طریقے سے موبائل کے بعد واچ کی اہمیت بہت کم ہوگئی ہے لیکن پھر بھی آج ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ جی میرے ہاتھ میں بہت اچھی قسم کی ایک برانڈ کی واچ ہوہ لیکن حالات جس طرح کے ہیں کہ لوگ افورڈ نہیں کر پاتے زیادہ تر مڈل کلاس لوگ ہیں ان کے لیے بہت مسئلہ ہوتا ہے ایک اچھہ واچ کیسے پہن سکتے ہیں اس کے لئے میں آج بتانے والا ہوں آپ کو واچزکے بارے میں بہت ہی زبردست طریقہ جس سے آپ اچھی اور سستی واچ خرید سکتے ہیں
جو واچ چمن باڈر سے پاکستان میں آتی ہیں وہ امپورٹ ہوتی ہیں برانڈڈ ہوتے ہیں مطلب ان میں جاپان کے بعد بھی آتی ہیں تھائی لینڈ کی سنگاپور کی جرمنی کی اور اس کے علاوہ بہت ساری مختلف ملکوں سے یہ گھڑیاں یہاں آتی ہیں جو کہ چمن بارڈر کے راستے بھارتی ہیں تو یہ یوز میں ہوتی ہیں لیکن بہت ہی اچھی کنڈیشن میں ہوتی ہیں بننے کے لائق ہوتی ہیں اور میں خصوصا کچھ تو نام ہی بہت ہی مشہور گھڑیوں کے وہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں
پہلے نمبر پر بات کرتے ہیں راڈو اسٹار کی راڈو اسٹار بھی آتی ہیں اور راڈو کلومیٹر بھی آتی ہیں ان میں بہت ہی اچھی حالت میں ہوتی ہیں اوریجنل ہوتی ہیں اور ذمہ داری کے ساتھ بھی دیتے ہیں کسی کا کچھ اسپئرپارٹ وغیرہ ہوتا ہے مطلب کسی چین بدلی ہوئی ہوتی ہے ہے کسی کا بیک کور اور مکمل اوریجنل بھی مل جاتی ہیں
اگر ان راڈوگھڑی و کو خریدا جائے تو ان میں قیمت کے حساب سے یہ بہت ہی مناسب قیمت میں مل جاتی ہیں مطلب بیس ہزار سے شروع ہوکر 60 ہزار تک بی مل جاتی ہیں اگر اس کو عام مارکیٹ سے کمپئر کیا جائے تو عام مارکیٹ کی نسبت چمن باڈر سے آئی ہوئی واٹس اپ کو 25 سے 30 پرسینٹ قیمت میں مل جاتی ہے مطلب جو گاڑی آپ کو عام مارکیٹ میں 80 ہزار روپے میں ملتی ہے وہ آپ کو چمن بارڈر پر یا کوئٹہ میں 65 ہزار کے مل جاتی ہے 55ہزار کے مل جاتی ہے مگر اتنا فرق ہوتا ہے
اب بات کرتے ہیں دوسرے برانڈز کی جیسے رول سے ٹیسٹ ہے امی کا ہے اور بہت ساری جس میں سے میں نے پشتو کی 25 آپ کو یوٹیوب چینل پر دکھایا اور میں نے آپ کو امریکا کی بات بھی دکھائی اور اس کے علاوہ میں نے آپ کو اردو بھی دکھائی امید کی ایک واچ میں نے ان سے خرید لی ہیں بائیس ہزار روپے کی جس کی اصل مالیت وہاں پہ چار لاکھ سے زیادہ ہے اس کے علاوہ جو ٹیسٹوں کی آواز میں نے آپ کو دیکھا یہ بھی بہت ہی اعلی کوالٹی کی ہیں اور وہ اس کی اصل ہونے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں اگر اس حساب سے دیکھا جائے اور ان کی قیمتوں کو کم پیر کیا جائے تو اس کی نسبت یہ بہت سستی اور بہت اچھے اور اعلی کوالٹی کی ہیں اور دوستو یہاں پر میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ کچھ ملکوں کی کاپی ایسی ہوتی ہیں جنھیں اگر کمپیوٹر کیا جائے تو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اس میں سے اصل کونسی اور کاپی کونسی ہے
یوٹیوب چینل کی ویڈیو ہو یا پھر ویب سائٹ کا آرٹیکل یہ صرف آپ کی معلومات بڑھانے کے لئے ہے اگر آپ واچ خریدتے ہیں تو اپنی طرف سے مکمل تسلی کر لیں کیونکہ یوٹیوب چینل اور ویب سائیٹ کسی قسم کے لین دین اورنفع نقصان کا ذمہ دار نہیں شکریہ
03023893036سمالانی واچ کوئٹہ محمد اسلم سمالانی واٹس ایپ

0 Comments