Pak Suzuki to finally discontinue minivan Bolan & Ravi in Pakistan soon

Advertisement

Pak Suzuki to finally discontinue minivan Bolan & Ravi in Pakistan soon

 

انیس سو نوے کی دہائی سے لے کرسوویت کی کمپنی کے بولا لوگوں کے دلوں میں بہت اہمیت رکھتی ہے اور بہت سارے خاندانوں کو لے جانے کا کام کرتی ہے لیکن ڈراپ سروس کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں سمیت8افراد جاری میں بیٹھ سکتے تھے تاہم یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ملٹی پرپ800 سی سی  بولان کو اگلے سال تک بند کر سکتی ہے

 جو کہ پاکستان میں اس کے چالیسویں سال کو منائے گی آٹو بولان چلانے والے اٹھو سیکٹر کے ماہر عثمان انصاری نے کہا ہے کہ سوزوکی بولان کو انیس سو بیاسی سے انیس سو تراسی میں ہیرو کے طور پر لانچ کیا گیا تھا بعد میں اس کا نام بولان اور اس کے پک بورنگ کا نام 1991 میں رکھا گیا اور جب وہ سو اکانوے میں اس مقام سے ملی کراچی سے بن کر اسم پلانٹ میں شروع ہوئی 

انہوں نے مزید کہا کہ سوزوکی نے اپنی تمام گاڑیوں کے ناموں کو مقامی بنایا بے شمار گلاس ویب سے ڈاؤنلوڈ مہران الٹو خیبر سوت اور پوٹھوار جنی کم سے کم چار عدد راجو اس معاملے میں سے خفیہ ہی نے کہا ہے گیارہویں جرنیشن 660cc سوزوکی ایوری نسل کے بولنے کو تبدیل کرنے کے لئے پاک سوزوکی کے کارد پر ہے

کمپنی کی طرف سے اس کی تردید کی گئی جو کہ ایک درج شدہ ادارہ ہے اور قانون کے مطابق اس طرح کے منصوبوں کے بارے میں پہلے اسٹاک ایکسچینج کو مطلع کرنا ضروری ہے سوزوکی کی ڈیلر شپ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ نئی چھٹی نسل کی منی وین ایوری اگلے سال لانچ کی جائے گی اور گول ان کو بند کیا جائے گا

ایک آٹو پارٹس کمپنی کے ایک عہدے دار نے یہ بھی بتایا کہ انہیں پاک سوزوکی سے ایسے پردے تیار کرنے کے بعد ملے ہیں جو ہر ملین میں استعمال ہونے والے ہیں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ لوازمات مینوفیکچر کے ایک سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے کہا کہ جو کی ہار پر راج کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں لیکن اس میں وقت لگے گا اور شاید اسے 2022 یا 2023 سے پہلے لانچ نہیں کیا جائے گا

آٹو انڈسٹری کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے نئے فیصلے میں تمام گاڑیوں میں ائیر بیگ لگانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو زیادہ تر 800cc بولان اور راوی کو متاثر کرے گا ذرائع نے بتایا کہ دونوں گاڑیوں کے پاس گاڑی کے اگلے حصے میں ائیر بیگ لگانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے

فروری میں لاہور ہائیکورٹ نے یونین گراؤنڈ بورڈ جو کے آٹو انڈسٹری کے لیے ریگولیٹری ایجنسی ہے کو ہدایت کی کہ کار کمپنیاں ایرڈ والی کاروں کو اکٹھا کریں

Post a Comment

0 Comments